Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
156 - 601
مِنۡۢ بَعْدِہِمْ ؕ ذٰلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیۡ وَخَافَ وَعِیۡدِ ﴿۱۴﴾ وَاسْتَفْتَحُوۡا وَخَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیۡدٍ ﴿ۙ۱۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم ضرور تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین پر ہوجاؤ تو انہیں ان کے رب نے وحی بھیجی کہ ہم ضرور ان ظالموں کو ہلاک کریں گے۔ اور ضرور ہم تم کو ان کے بعد زمین میں بسائیں گے یہ اس لیے ہے جو میرے حضو ر کھڑے ہونے سے ڈرے اور میں نے جو عذاب کا حکم سنایا ہے اس سے خوف کرے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا: ہم ضرور تمہیں اپنی سرزمین سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین میں آجاؤ تو ان رسولوں کی طرف ان کے رب نے وحی بھیجی کہ ہم ضرور ظالموں کو ہلاک کردیں گے۔ اور ضرور ہم ان کے بعد تمہیں زمین میں اِقتدار دیں گے ۔یہ اس کیلئے ہے جو میرے حضو ر کھڑے ہونے سے ڈرے اور میری وعید سے خوفزدہ رہے۔
{وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِرُسُلِہِمْ:اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا۔} یعنی کافروں نے اپنے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے کہا کہ ہم تمہیں اپنے شہروں اور اپنی سرزمین سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین میں آ جاؤ۔ کافروں کی ان باتوں کے بعد اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء اور رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ ان کے کاموں کا انجام ہلاکت و بربادی ہے لہٰذاتم ان کی وجہ سے فکر مند نہ ہو۔ (1)
{وَلَنُسْکِنَنَّـکُمُ الۡاَرْضَ مِنۡۢ بَعْدِہِمْ:اور ضرور ہم ان کے بعد تمہیں زمین میں اقتدار دیں گے ۔} امام محمد بن جریر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں’’ اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کافروں کے خلاف مدد کرنے کا وعدہ فرمایا ہے ، جب رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی امتیں کفر میں حد سے بڑھ گئیں اور انہوں نے اپنے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکواَذِیّتیں پہنچانے کی دھمکیاں دیں تو اللّٰہ تعالیٰ نے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ ان کی امتوں میں سے جنہوں نے کفر کیا اللّٰہ تعالیٰ انہیں ہلاک کر دے گا اور تمہاری مدد فرمائے گا۔ درحقیقت ان آیات
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1…خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۳، ۳/۷۷-۷۸۔