Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
155 - 601
	اور ارشادِ ربّانی ہے
’’اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیۡنَ‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان:بیشک اللّٰہ توکل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔
	تو وہ مقام کتنا عظیم ہے جس پر فائز شخص کو اللّٰہ تعالیٰ کی محبت حاصل ہو اورا س کو اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے کفایت کی ضَمان بھی حاصل ہو،تو جس شخص کے لئے اللّٰہ تعالیٰ کفایت فرمائے،اس سے محبت کرے اور اس کی رعایت فرمائے اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی کیونکہ جو محبوب ہوتا ہے اسے نہ تو عذاب ہوتاہے،نہ دوری ہوتی ہے اور نہ ہی وہ پردے میں ہوتا ہے۔
	 نیز اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
’’وَمَنۡ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَاِنَّ اللہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ‘‘ (2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو اللّٰہ پر توکل کرے تو بیشک اللّٰہ غالب، حکمت والا ہے۔
	یعنی ایسا غالب اور عزت والا ہے کہ جو کوئی ا س کی پناہ میں آ جائے وہ ذلیل ورسوا نہیں ہوتا۔ جو اس کی بارگاہِ بے کس پناہ میں پناہ لیتا ہے اور اس کی حمایت میں آ جاتا ہے وہ پَستی کاشکار نہیں ہوتا، وہ ایسا حکیم ہے کہ جو کوئی اس کی تدبیر پر بھروسہ کرتا ہے اس کی تدبیر میں کوئی کوتاہی نہیں ہوتی۔ (3)
توکل کاایک مفہوم:  
	حضرت ابوتراب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا قول ہے کہ توکل بدن کو عبودیت میں ڈالنے،دل کو ربوبیّت کے ساتھ متعلق رکھنے ،عطا پر شکر اور مصیبت پر صبر کرنے کا نام ہے۔ (4)
وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِرُسُلِہِمْ لَنُخْرِجَنَّکُمۡ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوۡدُنَّ فِیۡ مِلَّتِنَا ؕ فَاَوْحٰۤی اِلَیۡہِمْ رَبُّہُمْ لَنُہۡلِکَنَّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۳﴾ وَلَنُسْکِنَنَّـکُمُ الۡاَرْضَ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ال عمران:۱۵۹۔	2…انفال:۴۹۔
3…احیاء العلوم، کتاب التوحید والتوکّل، بیان فضیلۃ التوکّل، ۴/۳۰۰-۳۰۱۔
4…مدارک، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۵۶۵۔