معجزہ تمہارے پاس لے آئیں اور مسلمانوں کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے، وہی دشمنوں کے شر دور کرتا اور اس سے محفوظ رکھتا ہے۔ (1)
وَمَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَکَّلَ عَلَی اللہِ وَقَدْ ہَدٰىنَا سُبُلَنَا ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰی مَاۤ اٰذَیۡتُمُوۡنَا ؕ وَعَلَی اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوۡنَ ﴿٪۱۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ہمیں کیا ہوا کہ اللّٰہ پر بھروسہ نہ کریں اس نے تو ہماری راہیں ہمیں دکھادیں اور تم جو ہمیں ستا رہے ہو ہم ضرور اس پر صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کو اللّٰہ ہی پر بھروسہ چاہیے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللّٰہ پر بھروسہ نہ کریں حالانکہ اس نے تو ہمیں ہماری راہیں دکھائی ہیں اور تم جو ہمیں ستا رہے ہو ہم ضرور اس پر صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کو اللّٰہ ہی پر بھروسہ کرناچاہیے۔
{وَمَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَکَّلَ عَلَی اللہِ:اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللّٰہ پر بھروسہ نہ کریں۔} یعنی ہم سے ایسا ہو نہیں سکتا کہ ہم اللّٰہ تعالیٰ پر بھروسہ نہ کریں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ قضائے الٰہی میں ہے وہی ہوگا ،ہمیں اس پر پورا بھروسہ اور کامل اعتماد ہے۔ اس نے تو ہمیں ہماری سعادت کی راہیں دکھائیں اور رُشد و نجات کے طریقے ہم پر واضح فرمادیئے اور ہم جانتے ہیں کہ تمام اُمور اس کے قدرت و اختیار میں ہیں۔خدا کی قسم! تم اپنی باتوں اور عملوں سے جو ہمیں ستا رہے ہو ہم ضرور اس پر صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ہی پر بھروسہ کرناچاہیے۔ (2)
توکل کی فضیلت:
امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ توکل کی فضیلت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
’’وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ‘‘(3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو اللّٰہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۱، ۳/۷۷۔
2…خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۲، ۳/۷۷۔
3…طلاق:۳۔