سے تمہارے دعوے کی صحت ثابت ہو۔ ان کا یہ کلام عناد اورسرکشی کی وجہ سے تھا اور باوجود یہ کہ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نشانیاں لاچکے تھے ، معجزات دکھا چکے تھے پھر بھی انہوں نے نئی دلیل مانگی اور پیش کئے ہوئے معجزات کو کالعدم قرار دیا۔(1)
قَالَتْ لَہُمْ رُسُلُہُمْ اِنۡ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ وَلٰکِنَّ اللہَ یَمُنُّ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ ؕ وَمَا کَانَ لَنَاۤ اَنۡ نَّاۡتِیَکُمۡ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللہِ ؕ وَعَلَی اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوۡنَ ﴿۱۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: ان کے رسولوں نے ان سے کہا ہم ہیں تو تمہاری طرح انسان مگر اللّٰہ اپنے بندوں میں جس پر چاہے احسان فرماتا ہے اور ہمارا کام نہیں کہ ہم تمہارے پاس کچھ سند لے آئیں مگر اللّٰہ کے حکم سے اور مسلمانوں کو اللّٰہ ہی پر بھروسہ چاہیے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ان کے رسولوں نے ان سے فرمایا: ہم تمہارے جیسے ہی انسان ہیں لیکن اللّٰہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے اور ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم اللّٰہ کے حکم کے بغیر کوئی دلیل تمہارے پاس لے آئیں اور مسلمانوں کو اللّٰہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
{قَالَتْ لَہُمْ رُسُلُہُمْ:ان کے رسولوں نے ان سے فرمایا۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کافروں نے اپنے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے یہ کہا کہ تم تو ہمارے جیسے آدمی ہو، تو رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں جواب دیا ’’ اچھا یہی مانو کہ ہم واقعی تمہارے جیسے ہی انسان ہیں لیکن اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے اور نبوت و رسالت کے ساتھ اسے برگزیدہ کرتا ہے اور اِس منصبِ عظیم کے ساتھ مشرف فرماتا ہے اور ہمیں کوئی حق نہیں کہ نبوت و رسالت کے منصب پر فائز ہونے کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر ہم اپنی صداقت پر دلالت کرنے والی کوئی دلیل اور
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جلالین مع صاوی، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۰، ۳/۱۰۱۶-۱۰۱۷، خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۰، ۳/۷۶-۷۷، مدارک، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۰، ص۵۶۵، ملتقطاً۔