عَزَّوَجَلَّ کا شکر کرے اور اگر ایساوقت آئے جو اس کی طبیعت کے مطابق نہ ہو تو صبر کرے۔ (1) اور حضرت صہیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’مسلمان مرد پر تعجب ہے کہ اس کے سارے کام خیر ہیں ، یہ بات مومن مرد کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہوتی کہ اگر اسے راحت پہنچے تو وہ شکر ادا کرتا ہے لہٰذا اس کے لیے راحت خیر ہے اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے لہٰذا صبر اس کے لیے بہتر ہے۔ (2)
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں عافیت عطا فرمائے اور اگر کوئی تکلیف پہنچے تو صبر کرنے اور جب راحت ملے تو شکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،اٰمین۔
وَ اِذْ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوْمِہِ اذْکُرُوۡا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَیۡکُمْ اِذْ اَنۡجٰىکُمۡ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوۡمُوۡنَکُمْ سُوۡٓءَ الْعَذَابِ وَیُذَبِّحُوۡنَ اَبْنَآءَکُمْ وَیَسْتَحْیُوۡنَ نِسَآءَکُمْ ؕ وَ فِیۡ ذٰلِکُمۡ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّکُمْ عَظِیۡمٌ ٪﴿۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا یاد کرو اپنے اوپر اللّٰہ کا احسان جب اس نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی جو تم کو بری مار دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں زندہ رکھتے اور اس میں تمہارے رب کا بڑا فضل ہوا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا: اپنے اوپر اللّٰہ کا احسان یاد کرو جب اس نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بری سزا دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔
{وَ اِذْ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوْمِہِ:اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اپنی قوم کو یہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۵، ۷/۶۵۔
2…مسلم، کتاب الزہد والرقائق، باب المؤمن امرہ کلّہ خیر، ص۱۵۹۸، الحدیث: ۶۴(۲۹۹۹)۔