{اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَکَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ:کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے اجالے میں لاؤ۔} اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام انبیائِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی بعثت کا مقصد ایک ہی ہے کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی مخلوق کو کفر کے اندھیروں سے ہدایت اور ایمان کی روشنی کی طرف لانے کی کوشش کریں ۔ (1)
{وَذَکِّرْہُمْ بِاَیّٰىمِ اللہِ:اور انہیں اللّٰہ کے دن یا د دلاؤ۔} قاموس میں ہے کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے دنوں سے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی نعمتیں مراد ہیں۔ حضرت عبداللّٰہ بن عباس، حضرت اُبی بن کعب ،امام مجاہد اور حضرت قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے بھی اَیَّامُ اللّٰہ کی تفسیر ’’اللّٰہ کی نعمتیں‘‘ فرمائی ہے۔ مقاتل کا قول ہے کہ اَیَّامُ اللّٰہ سے وہ بڑے بڑے واقعات مراد ہیں جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے حکم سے واقع ہوئے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ اَیَّامُ اللّٰہ سے وہ دن مراد ہیں جن میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے بندوں پر انعام کئے جیسے کہ بنی اسرائیل کے لئے مَن و سَلویٰ اُتارنے کا دن ،حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے دریا میں راستہ بنانے کا دن۔ (2)بظاہر نعمت ِ الٰہی ملنے کے اَیّام والا معنی زیادہ قوی ہے کہ اگلی آیت میں حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے عمل سے اسی کو واضح فرمایا ہے۔ اسی سے مسلمانوں کا نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ولادتِ مبارکہ کا جشن منانا بھی ثابت ہوتا ہے کہ اَیَّامُ اللّٰہ میں سب سے بڑی نعمت کا دن سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ولادت کا دن ہے ، لہٰذا اس کی یاد قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے اسی طرح اور بزرگوں پر جو اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتیں ہوئیں یا جن ایام میں عظیم واقعات پیش آئے ان کی یادگار یں قائم کرنا بھی اللّٰہ تعالیٰ کے دن یاد دلانے میں داخل ہے۔
{اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوۡرٍ:بیشک اس میں ہر بڑے صبرکرنے والے ،شکر گزار کیلئے نشانیاں ہیں ۔} یعنی بیشک ان اَیَّامُ اللّٰہ میں ہر اس شخص کے لئے اللّٰہ تعالیٰ کی عظمت، قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں ہیں جو اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت اور مصیبتوں پر بڑا صبرکرنے والا اور اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں پر بڑا شکر گزار ہے ۔ (3)
مسلمانوں کو صبر و شکر کی نصیحت:
امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس آیت میں اس بات پر تنبیہ کی گئی ہے کہ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ زندگی میں اگر اس پر ایساوقت آئے جو ا س کی طبیعت کے مطابق اور اس کے ارادے کے موافق ہو تو وہ اللّٰہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۵، ۷/۶۴۔
2…خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۵، ۳/۷۵، مدارک، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۵، ص۵۶۳، ملتقطاً۔
3…روح البیان، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۵، ۴/۳۹۸۔