ارشاد فرمانا اللّٰہ تعالیٰ کے دن یاد دلانے کے حکم کی تعمیل ہے۔ (1)
نوٹ:یاد رہے کہ بنی اسرائیل کی فرعونیوں سے نجات کی تفصیل سورہ ٔبقرہ کی آیت 49 کے تحت گزر چکی ہے۔
آیت’’وَ اِذْ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوْمِہِ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں
(1)… مسلمانوں پر کافر اور ظالم حکمرانوںکا تَسَلط ہونا اللّٰہ تعالیٰ کا دنیوی عذاب اور ہمارے برے اعمال کا نتیجہ ہے جبکہ اچھے حکمران رب تعالیٰ کی رحمت اور نیک اعمال کا نتیجہ ہیں ۔
(2)… کافر و ظالم کی ہلاکت، اس کی موت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت ہے جیسے علماء وصالحین کی وفات ہمارے لئے مصیبت ہے۔ ظالم کی موت پر خوشی کرنا اچھا ہے۔
وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنۡ شَکَرْتُمْ لَاَزِیۡدَنَّکُمْ وَلَئِنۡ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ ﴿۷﴾ وَ قَالَ مُوۡسٰۤی اِنۡ تَکْفُرُوۡۤا اَنۡتُمْ وَ مَنۡ فِی الۡاَرْضِ جَمِیۡعًا ۙ فَاِنَّ اللہَ لَغَنِیٌّ حَمِیۡدٌ ﴿۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور یاد کرو جب تمہارے رب نے سنادیا کہ اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دوں گا اور اگر ناشکری کرو تو میرا عذاب سخت ہے۔ اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور زمین میں جتنے ہیں سب کا فر ہوجاؤ تو بیشک اللّٰہ بے پرواہ سب خوبیوں والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان فرمادیا کہ اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گااور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔اور موسیٰ نے فرمایا: (اے لوگو!) اگر تم اور زمین میں جتنے لوگ ہیں سب ناشکرے ہوجاؤتو بیشک اللّٰہ بے پرواہ ،خوبیوں والا ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۶، ۳/۷۵۔