وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوۡسٰی بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَکَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ۬ۙ وَذَکِّرْہُمْ بِاَیّٰىمِ اللہِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوۡرٍ ﴿۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیریوں سے اجالے میں لا اور انہیں اللّٰہ کے دن یا د دِلا بے شک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر والے شکر گزار کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے اجالے میں لاؤ اور انہیں اللّٰہ کے دن یا د دلاؤ۔ بیشک اس میں ہر بڑے صبرکرنے والے ،شکر گزار کیلئے نشانیاں ہیں ۔
{وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوۡسٰی بِاٰیٰتِنَاۤ:اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا ۔} اس سے پہلی آیت میںاللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے رسول کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو لوگوں کی طرف ا س لئے بھیجا تاکہ آپ ان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لائیں ۔ اس کے بعد اللّٰہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا جو نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کی قوم کو عطا فرمائے تھے اور اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے گزشتہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ذکر فرما یا کہ جب اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں ان کی قوموں کی طرف بھیجا تو ان لوگوں نے اپنے نبیوں اور رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ کیسا معاملہ کیا تاکہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی قوم کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیّتوں پر صبر فرمائیں اور انہیں یہ بتا دیا جائے کہ سابقہ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوموں کے درمیان کس قسم کا معاملہ ہوا تھا،اسی سلسلے میں اللّٰہتعالیٰ نے بعض انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات بیان فرمائے ان میں سب سے پہلے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان فرمایا۔ (1)
یاد رہے کہ آیت میں مذکور نشانیوں سے وہ معجزات مراد ہیں جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامدے کر بھیجے گئے تھے جیسے عَصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا روشن ہو جانا اوردریا کا پھٹ جانا وغیرہ۔ (2)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۵، ۷/۶۴۔
2…خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۵، ۳/۷۴۔