بعد والے انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوموں کے واقعات بیان کر کے تاجدارِ رسالتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دی گئی اور ان قوموں پر نازل ہونے والے عذابات سے کفار ِمکہ کو ڈرایا گیا۔
(3) … خانۂ کعبہ کی تعمیر کے بعد حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے مکہ والوں کے لئے امن اور رزق کی،لوگوں کے دل خانۂ کعبہ کی طرف مائل ہونے کی ،اپنی اولاد کے بتوں کی پوجا سے بچنے کی،اپنی اولاد کو نماز قائم کرنے کی توفیق دینے کی ،اپنی ،اپنے والدین اور مسلمانوں کی مغفرت کی جو دعائیں مانگیں وہ بیان کی گئیں۔
(4) …ایمان اورکلمۂ حق کی مثال پاک درخت سے جبکہ گمراہی اور کلمۂ باطل کی مثال خبیث درخت سے بیان کی گئی۔
(5) …قیامت کی ہولناکیاں بیان کر کے نصیحت کی گئی اور ظالموں کے لئے مختلف قسم کے عذابات بیان کر کے انہیں ڈرایا گیا۔
(6) … قیامت کے دن تک عذاب مؤخر کرنے کی حکمت بیان کی گئی۔
سورۂ رعد کے ساتھ مناسبت:
سورہ ٔابراہیم کی اپنے سے ماقبل سورت ’’رعد‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ رعد میں بیان کیا گیا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اس قرآن کو عربی فیصلے کی صورت میں اتارا اور سورۂ ابراہیم کی پہلی آیت میں قرآن پاک نازل کرنے کی حکمت بیان کی گئی کہ اسے نازل کرنے کامقصد یہ ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ لوگوں کو ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے اندھیروں سے اجالے کی طرف ،اس اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے راستے کی طرف نکالیں جو عزت والا اور سب خوبیوں والا ہے۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ ﴿﴾
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزالعرفان:اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
الٓرٰ ۟کِتٰبٌ اَنۡزَلْنٰہُ اِلَیۡکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ۬ۙ بِاِذْنِ