رَبِّہِمْ اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیۡزِ الْحَمِیۡدِ ۙ﴿۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری کہ تم لوگوں کو اندھیریوں سے اجالے میں لا ؤ ان کے رب کے حکم سے اس کی راہ کی طرف جو عزت والا سب خوبیوں والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: الر، یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کو ان کے رب کے حکم سے اندھیروں سے اجالے کی طرف ،اس (اللّٰہ) کے راستے کی طرف نکالو جو عزت والا ،سب خوبیوں والا ہے۔
{الٓرٰ:} یہ حروفِ مُقَطَّعات میں سے ایک حرف ہے،اس کی مراد اللّٰہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
{کِتٰبٌ:یہ ایک کتاب ہے۔} یعنی قرآنِ پاک ایک کتاب ہے جو اے حبیب !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم نے آپ کی طرف نازل فرمائی ہے، اس کو نازل کرنے کی حکمت یہ ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ لوگوں کو ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے کفر، گمراہی اور جہالت کے اندھیروں سے ایمان کے اجالے کی طرف اور اس اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے راستے یعنی دینِ اسلام کی طرف لاؤ جو عزت والا، سب خوبیوں والاہے۔ (1)
دینِ حق کی راہ ایک ہے:
امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ ظُلُمَاتْ کو جمع اور نُوْر کوواحد کے صیغہ سے ذکر فرمانے میں ا س طرف اشارہ ہے کہ دینِ حق کی راہ ایک ہے اور کفر و گمراہی کے راستے کثیر ہیں۔ (2)
ایمان اور ہدایت کا نور عطا کرنے والے:
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے حکم سے لوگوں کو ظلمت ِکفر سے نکال کرایمان کی روشنی میں داخل کرتے ہیں، کوئی شخص صرف قرآن سے بغیر حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے واسطے ہدایت نہیں پا سکتا ۔نورِ ہدایت کا ذریعہ صرف حضور اکرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذاتِ مبارکہ ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱، ۳/۷۳-۷۴، ملخصاً۔
2…تفسیرکبیر، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱، ۷/۵۸۔