سورۂ ابراہیم
سورۂ ابراہیم کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ ابراہیم مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی البتہ اس کی یہ آیت ’’اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ بَدَّلُوۡا نِعْمَتَ اللہِ کُفْرًا‘‘ اور اس کے بعد والی آیت مکہ مکرمہ میں نازل نہیں ہوئی ۔ (1)
آیات،کلمات اورحروف کی تعداد:
اس سورت میں 7رکوع، 52 آیتیں، 861 کلمے اور 3434 حروف ہیں۔ (2)
’’ابراہیم ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
اس سورت کی آیت نمبر 35 تا 41 میں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اطاعتِ الٰہی کے حسین واقعے اور آپ کی دعاؤں کو بیان کیا گیا ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ ابراہیم‘‘ رکھا گیا۔
سورۂ ابراہیم کے مَضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں اللّٰہ تعالیٰ پر، اس کے رسولوں پر، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزاء ملنے پر ایمان لانے کو دلائل کے ساتھ ثابت کیاگیا اور یہ بتایاگیا ہے کہ حقیقی معبود وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور پوری کائنات میں ا س کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ۔اس کے علاوہ اس سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں
(1) …کفار کی مذمت بیان کی گئی اورکفر کرنے پر انہیں شدید عذاب کی وعید سنائی گئی اور مسلمانوں سے ان کے نیک اعمال کے بدلے جنت دینے کا وعدہ کیا گیا۔
(2) …حضرت نوحعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور ان کے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ1…خازن، تفسیر سورۃ ابراہیم۔۔۔ الخ، ۳/۷۳۔
2…خازن، تفسیر سورۃ ابراہیم۔۔۔ الخ، ۳/۷۳۔