مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیۡ وُعِدَ الْمُتَّقُوۡنَ ؕ تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہَا الۡاَنْہٰرُ ؕ اُکُلُہَا دَآئِمٌ وَّظِلُّہَا ؕ تِلْکَ عُقْبَی الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا ٭ۖ وَّعُقْبَی الْکٰفِرِیۡنَ النَّارُ ﴿۳۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: احوال اس جنت کا کہ ڈر والوں کے لیے جس کا وعدہ ہے اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں اس کے میوے ہمیشہ اور اس کا سایہ ڈر والوں کا تو یہ انجام ہے اور کافروں کا انجام آ گ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس جنت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں جاری ہیں، اس کے پھل اور اس کا سایہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔یہ پرہیزگاروں کا انجام ہے اور کافروں کا انجام آگ ہے۔
{مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیۡ وُعِدَ الْمُتَّقُوۡنَ:جس جنت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے۔}اس سے پہلی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے دنیااور آخرت میں کفار کے عذاب میں مبتلا ہونے کا ذکر فرمایا اور اس آیت میں مسلمانوں کے ثواب کاذکر فرمایا ہے۔ (1)
جنت کے تین اوصاف:
اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے جنت کے تین اوصاف بیان فرمائے ہیں۔
(1)…جنت کے نیچے سے نہریں جاری ہیں۔ ان نہروں کی تفصیل اس آیت میں بیان گئی ہے۔
’’مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیۡ وُعِدَ الْمُتَّقُوۡنَ ؕ فِیۡہَاۤ اَنْہٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَیۡرِ اٰسِنٍۚ وَ اَنْہٰرٌ مِّنۡ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہٗ ۚ وَ اَنْہٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیۡنَ ۬ۚ وَ اَنْہٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی‘‘ (2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس جنت کا حال جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ اس میں خراب نہ ہونے والے پانی کی نہریں ہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہ بدلے اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کیلئے لذت (بخش) ہے اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، الرعد، تحت الآیۃ: ۳۵، ۷/۴۶۔
2…سورۂ محمد:۱۵۔