Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
125 - 601
کرو گے، اس وقت وہ نا امید ہوجائیں گے اور اللّٰہ تعالیٰ کے مقابل جو باتیں کی ہوں گی اُن پر اِنہیں افسوس ہوگا، لیکن اب نہ تو ان کو ندامت نجات دے گی اور نہ ہی افسوس کا کوئی فائدہ ہوگا بلکہ انہیں طوق پہنا کر چہروں کے بل اوندھا گرادیا جائے گا،ان کے اوپرنیچے، دائیں اور بائیں آگ ہی آگ ہوگی، وہ آگ میں ڈوبے ہوئے ہوں گے ،ان کا کھانا آگ، پینا آگ، لباس آگ اور بچھونا آگ ہو گا اور وہ آگ کے ٹکڑوں، تارکول کے لباس،گرزوں کے ساتھ مارے جانے اور بھاری بیڑیوں کے درمیان ہوں گے ،وہ دوزخ کے تنگ راستوں میں چلیں گے اور جہنم کی سیڑھیوں سے ہجوم کے ساتھ اتریں گے اور ان کے اَطراف و جوانب میں پریشان پھر رہے ہوں گے، آگ ان پر اس طرح جوش مار رہی ہوگی جس طرح ہنڈیا میں ابال آتا ہے۔ وہ تباہی اور بربادی کے ساتھ آواز دے رہے ہوں گے، جب وہ ہلاکت کا لفظ بولیں گے تو ان کے سروں پر گرم پانی ڈالا جائے گا جس سے ان کے پیٹوں کے اندر کا سب کچھ اور چمڑے پگھل جائیں گے، ان کے لیے لوہے کے گرز ہوں گے جن سے ان کی پیشانیاں چور چور ہوجائیں گی اور ان کے مونہوں سے پیپ نکلنے لگے گی۔ پیاس کی وجہ سے جگر پھٹ جائیں گے اور آنکھوں کے ڈھیلے چہروں پر نکل پڑیں گے اور رخساروں کے اوپر سے گوشت گرجائے گا اور ان کے اعضا سے چمڑے اور بال بھی سب گرجائیں گے ،جب ان کے چمڑے پک جائیں گے تو ان کو دوسرے چمڑوں سے بدل دیا جائے گا۔ان کی ہڈیاں گوشت سے خالی ہوجائیں گی اور اب روحوں کا مرکز صرف رگیں اور پٹھے ہوں گے اور اس آگ کی لپیٹ میں ان کی آواز آرہی ہوگی، اس کے ساتھ ساتھ وہ موت کی تمنا کریں گے لیکن ان کو موت نہیں آئے گی۔
	(اے لوگو! ذرا) سوچو، اگر تم ان کو دیکھو تو تمہاری کیا کیفیت ہو گی حالانکہ ان کے چہرے کوئلے سے بھی زیادہ سیاہ ہوگئے، آنکھوں کی بینائی چلی گئی اور زبانیں گُنگ ہوگئیں، پٹھے اور ہڈیاں ٹوٹ پھوٹ گئیں ،کان کٹے ہوئے، چمڑے پھٹے ہوئے ، ہاتھوں کو گردنوں سے باندھا ہوا اور پائوں کو پیشانیوں کے ساتھ جمع کیا ہواہوگا ،وہ آگ پر چہروں کے ساتھ چلتے ہوں گے اور لوہے کے کانٹے آنکھ کے ڈھیلے سے روندتے ہوں گے، آگ کا شعلہ ان کے اندر کے اجزا میں دوڑتا ہوگا اور جہنم کے سانپ اور بچھو ان کے ظاہر اَعضا سے لپٹے ہوں گے۔ یہ ان کے بعض حالات ہیں ۔ (1)الامان والحفیظ، الامان والحفیظ۔ اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ، ہمیں شفاعت کرنے والوںکے سردار کی شفاعت نصیب فرما اوراپنے حبیب کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے امت کے غم میں بہنے والے آنسوؤں کے صدقے جہنم کے عذاب سے نجات عطا فرما،اٰمین۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ1…احیاء العلوم، کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الشطر الثانی، القول فی صفۃ جہنّم واہوالہا وانکالہا، ۵/۲۹۲-۲۹۳۔