Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
127 - 601
(2،3)…جنت کے پھل اور اس کا سایہ ہمیشہ رہنے والاہے۔یعنی جنت کے میوے اور اس کا سایہ دائمی ہے ان میں سے کوئی ختم اور زائل ہونے والا نہیں۔ جنت کا حال عجیب ہے کہ اس میں نہ سورج ہے نہ چاندلیکن پھر بھی تاریکی نہیں نیز سورج اور چاند نہیں لیکن پھر بھی سایہ ہے۔ 
وَالَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الْکِتٰبَ یَفْرَحُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَمِنَ الۡاَحْزَابِ مَنۡ یُّنۡکِرُ بَعْضَہٗ ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللہَ وَلَاۤ اُشْرِکَ بِہٖ ؕ اِلَیۡہِ اَدْعُوۡا وَ اِلَیۡہِ مَاٰبِ ﴿۳۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جن کو ہم نے کتاب دی وہ اس پر خوش ہوتے جو تمہاری طرف اترا اور ان گروہوں میں کچھ وہ ہیں کہ اس کے بعض سے منکر ہیں تم فرماؤ مجھے تو یہی حکم ہے کہ اللّٰہ کی بندگی کروں اور اس کا شریک نہ ٹھہراؤں میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے پھرنا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جنہیں ہم نے کتاب دی وہ اس پر خوش ہوتے جو آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے اور ان گروہوں میں کچھ وہ ہیں جو اس قرآن کے بعض حصے کا انکار کرتے ہیں ۔تم فرماؤ :مجھے تو یہی حکم ہے کہ میں اللّٰہ کی عبادت کروں اور اس کا شریک نہ ٹھہراؤں، میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے پھرنا ہے۔
{وَالَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الْکِتٰبَ:اور جنہیں ہم نے کتاب دی۔} حضرت حسن اور حضرت قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ اس آیت میں کتاب سے مراد قرآنِ پاک اور جنہیں کتاب دی گئی ان سے مراد صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم ہیں۔ قرآن نازل ہونے پر خوش ہونے سے مراد یہ ہے کہ قرآن نازل ہونے سے اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت، نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی نبوت اور مرنے کے بعد اٹھائے جانے سے متعلق مزید احکام نازل ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں خوشی ہوتی ہے۔ اَحزاب سے یہودیوں، عیسائیوں اور مشرکین کے وہ گروہ مراد ہیں جو نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی