Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
120 - 601
تو میرا عذاب کیسا تھا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک آپ سے پہلے رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو میں نے کافروں کو ڈھیل دی پھر میں نے انہیں پکڑلیا تو میرا عذاب کیسا تھا؟
{وَلَقَدِ اسْتُہۡزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبْلِکَ:اور بیشک آپ سے پہلے رسولوں کا مذاق اڑایا گیا۔} کفار ِمکہ نے جب ان معجزات کا مطالبہ مذاق اڑانے کے طور پر کیا تو یہ نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قلبِ اطہر پر بہت گراں گزرا اور ان باتوں سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بہت اَذِیّت اور تکلیف پہنچی تو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دینے کے لئے یہ آیت نازل فرمائی تاکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی قوم کے ان جاہلانہ مطالبوں پر صبر فرمائیں، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے حبیب!صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جس طرح آپ کی قوم نے آپ کا مذاق اڑانے کی نیت سے نشانیاں طلب کی ہیں اسی طرح باقی انبیائِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوموں نے بھی ان کا مذاق اُڑایا تھا ، پھر میں نے کافروں کوکچھ دنوں کیلئے ڈھیل دینے کے بعد عذاب میں گرفتار کر دیااور دنیا میں انہیں قحط ،قتل اور قید کی مصیبتوں میں مبتلا کر دیا اور آخرت میں اُن کے لئے جہنم کا عذاب ہے ۔ (1)
 علماء و مبلغین کیلئے درس:
	 اس آیت میں علماء و مبلغین کیلئے درس ہے کہ راہِ خدا میں تکالیف برداشت کرنا انبیائِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا طریقہ ہے اس لئے اگر انہیں راہِ خدا میں کسی تکلیف اور پریشانی کا سامنا ہو تو انہیں چاہئے کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے حالات اور ان کی سیرت کو سامنے رکھتے ہوئے صبر و تَحَمُّل کا مظاہرہ کریں ،اللّٰہ تعالیٰ نے چاہا تو ان کی تکالیف جلد دور ہو جائیں گی۔
عظمت ِاولیاء:
	 علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’اس آیت سے معلوم ہوا کہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور اولیا رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کا مذاق اڑانا بد بختی کی علامت ہے۔ حدیثِ قُدسی میں ہے،اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’جس نے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1…تفسیرکبیر، الرعد، تحت الآیۃ: ۳۲، ۷/۴۴، خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۳۲، ۳/۶۷، ملتقطاً۔