گیا جنہوں نے کفار کے نئی نئی نشانیاں طلب کرنے پر یہ چاہا تھا کہ جو کافر بھی کوئی نشانی طلب کرے وہی اس کو دکھادی جائے، اس میں اُنہیں بتادیا گیا کہ جب زبردست نشانیاں آچکیں اور شکوک وشبہات کی تمام راہیں بند کردی گئیں ، دین کی حقانیت روز ِروشن سے زیادہ واضح ہوچکی، ان واضح دلائل کے باوجود لوگ مکر گئے اور حق کا اِعتراف نہ کیا تو اس سے ظاہر ہوگیا کہ وہ عناد کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں اور عناد رکھنے والا کسی دلیل سے بھی مانا نہیں کرتا تو مسلمانوں کو اب ان سے حق قبول کرنے کی کیا امید؟ کیا اب تک ان کے عناد کا مشاہدہ کر کے ،واضح نشانیوں اور دلائل سے ان کا اِعراض کرنا دیکھ کر بھی ان سے قبولِ حق کی امید رکھی جاسکتی ہے؟ البتہ اب ان کے ایمان لانے اور مان جانے کی یہی صورت ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ انہیں مجبور کردے اور ان کا اختیار سَلب فرمالے ،لیکن اللّٰہ تعالیٰ اس طرح کی ہدایت چاہتا تو تمام آدمیوں کو عطا فرمادیتا اور کوئی کافر نہ رہتا مگر آزمائش اور امتحان کے گھر کی حکمت اس کا تقاضا نہیں کرتی۔ (1)
{وَلَا یَزَالُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا:اور کافروں کو ہمیشہ۔} یعنی کفار اپنے کفر اور خبیث اعمال کی وجہ سے طرح طرح کے حَوادث و مَصائب اور آفتوں اور بلائوں میں مبتلا رہیں گے ،کبھی قحط میں، کبھی لٹنے میں، کبھی مارے جانے میں ،کبھی قید میں، چنانچہ سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے زمانے کے کفار انہی چیزوں میں گرفتار ہوتے رہے۔
{اَوْ تَحُلُّ قَرِیۡبًا مِّنۡ دَارِہِمْ:یاآپ ان کے گھروں کے نزدیک اتریں گے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ حدیبیہ کے دن ان کے گھروں کے نزدیک اپنے لشکر کے ساتھ اتریں گے یہاں تک کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی طرف سے فتح و نصرت کا، رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کا دین غالب ہونے کا اور مکہ مکرمہ کی فتح کا وعدہ پورا ہوجائے، بے شک اللّٰہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں فرماتا۔ (2)
وَلَقَدِ اسْتُہۡزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبْلِکَ فَاَمْلَیۡتُ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ثُمَّ اَخَذْتُہُمْ ۟ فَکَیۡفَ کَانَ عِقَابِ ﴿۳۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک تم سے اگلے رسولوں پر بھی ہنسی کی گئی تو میں نے کافروں کو کچھ دنوں ڈھیل دی پھر انہیں پکڑا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، الرعد، تحت الآیۃ: ۳۱، ۴/۳۷۷، ملخصاً۔
2…خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۳۱، ۳/۶۷، مدارک، الرعد، تحت الآیۃ: ۳۱، ص۵۵۸، ملتقطاً۔