ترجمۂکنزُالعِرفان:اور اگر کوئی ایسا قرآن آتا جس سے پہاڑ ٹل جاتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردوں سے باتیں کی جاتیں (جب بھی یہ کافر نہ مانتے) بلکہ سب کام اللّٰہ ہی کے اختیار میں ہیں تو کیا مسلمان اس بات سے ناامید نہ ہوگئے کہ اگر اللّٰہ چاہتا تو سب آدمیوں کو ہدایت دیدیتا اور کافروں کو ان کے عمل کی وجہ سے ہمیشہ ہلا دینے والی مصیبت پہنچتی رہے گی یا آپ ان کے گھروں کے نزدیک اتریں گے یہاں تک کہ اللّٰہ کا وعدہ آجائے بیشک اللّٰہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
{وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ:اور اگر کوئی ایسا قرآن آتا جس سے پہاڑ ٹل جاتے۔} شانِ نزول:کفارِ قریش نے حضور پُر نورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے کہا تھا کہ اگر آپ یہ چاہیں کہ ہم آپ کی نبوت مانیں اور آپ کی پیروی کریں تو آپ قرآن شریف پڑھ کراس کی تاثیر سے مکہ مکرمہ کے پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹا دیجئے تاکہ ہمیں کھیتی باڑی کرنے کے لئے وسیع میدان مل جائیں اور زمین پھاڑ کر چشمہ جاری کیجئے تاکہ ہم کھیتوں اور باغوں کو ان سے سیراب کریں اورقُصَی بن کلاب وغیرہ ہمارے مرے ہوئے باپ دادا کو زندہ کردیجئے تاکہ وہ ہم سے کہہ جائیں کہ آپ نبی ہیں۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی اور بتادیا گیا کہ یہ حیلے بہانے کرنے والے کسی حال میں بھی ایمان لانے والے نہیں۔ سب کام اللّٰہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں،تو ایمان وہی لائے گا جس کو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ چاہے اور توفیق دے اس کے سوا اور کوئی ایمان لانے والا نہیں اگرچہ انہیں وہی نشانیاں دکھا دی جائیں جو وہ طلب کررہے ہیں۔ (1)
نورِ قرآن سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ:
اس سے معلوم ہو اکہ قرآنِ مجید کے انوار کو نگاہِ بصیرت سے دیکھنا ہی حقیقی طور پر فائدہ مند ہے کیونکہ کفار قرآن کریم کے نور کو نگاہ ِبصیرت سے نہیں دیکھتے تھے اسی لئے وہ اس کے بر حق ہونے کی بُرہان کا مشاہدہ نہ کر سکے اور حق قبول کرنے سے محروم رہ گئے، اس لئے جو یہ چاہتا ہے کہ اس کا دل قرآن عظیم کے نور سے منور ہوجائے اور قرآنی آیات کی تاثیر اس پر اثر کرے تو وہ نگاہِ بصیرت سے قرآن شریف کی تلاوت کرے اور اسے سمجھ کر پڑھے اور ا س میں دئیے گئے احکام پر عمل کرے اور ممنوعات سے باز رہے تو اِنْ شَآئَ اللّٰہ اس کا دل قرآن پاک کے نور سے جگمگا اٹھے گا اور وہ اس کی آیات کی تاثیر اپنے ظاہر اور باطن میں دیکھ لے گا۔
{اَفَلَمْ یَایۡـَٔسِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا:تو کیا مسلمان اس بات سے ناامید نہ ہوگئے ۔}اس آیت میں ان مسلمانوں کو جواب دیا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، الرعد، تحت الآیۃ: ۳۱، ۴/۳۷۶، جلالین، الرعد، تحت الآیۃ: ۳۱، ص۲۰۴، ملتقطاً۔