Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
117 - 601
فرمائے ہیں حالانکہ وہ رحمن کے منکر ہورہے ہیں۔ شانِ نزول:حضرت قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور مقاتل وغیرہ کا قول ہے کہ یہ آیت صلحِ حدیبیہ میں نازل ہوئی جس کا مختصر واقعہ یہ ہے کہ سہیل بن عمر وجب صلح کے لئے آیا اور صلح نامہ لکھنے پر اتفاق ہوگیا تو حضور اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے فرمایا لکھو ، بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کفار نے اس میں جھگڑا کیا اور کہا کہ آپ ہمارے دستور کے مطابق ’’بِاِسْمِکَ اللّٰھُمَّ‘‘ لکھوائیے، اس کے متعلق آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ وہ رحمن کے منکر ہورہے ہیں۔ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،آپ ان سے فرما دیں کہ رحمن تو وہی ہے جس کی معرفت سے تم انکار کر رہے ہو، وہ میرا رب عَزَّوَجَلَّ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اپنے تمام اُمور میں اسی پر بھروسہ کیااور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔ (1)
وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِہِ الۡاَرْضُ اَوْ کُلِّمَ بِہِ الْمَوْتٰی ؕ بَلۡ لِّلہِ الۡاَمْرُ جَمِیۡعًا ؕ اَفَلَمْ یَایۡـَٔسِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ لَّوْ یَشَآءُ اللہُ لَہَدَی النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَلَا یَزَالُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا تُصِیۡبُہُمۡ بِمَا صَنَعُوۡا قَارِعَۃٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیۡبًا مِّنۡ دَارِہِمْ حَتّٰی یَاۡتِیَ وَعْدُ اللہِ ؕ اِنَّ اللہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیۡعَادَ ﴿٪۳۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر کوئی ایسا قرآن آتا جس سے پہاڑ ٹل جاتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردے باتیں کرتے جب بھی یہ کافر نہ مانتے بلکہ سب کام اللّٰہ ہی کے اختیار میں ہیں تو کیا مسلمان اس سے نا امید نہ ہوئے کہ اللّٰہ چاہتا تو سب آدمیوں کو ہدایت کردیتا اور کافروں کو ہمیشہ ان کے کئے پر سخت دھمک پہنچتی رہے گی یا ان کے گھروں کے نزدیک اترے گی یہاں تک کہ اللّٰہ کا وعدہ آئے بیشک اللّٰہ وعدہ خلاف نہیں کرتا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1…خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۳۰، ۳/۶۶، ملخصاً۔