عمیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’یہ درخت جنّتِ عَدن میں ہے اور اس کی جڑ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ایوانِ مُعَلّٰی میں اور اس کی شاخیںجنت کے ہر بالا خانے اور محل میں ہیں، اس میں سیاہی کے سوا ہر قسم کے رنگ اور خوش نمائیاں ہیں ،ہر طرح کے پھل اورمیوے اس میں پھلے ہیں، اس کی جڑ سے کافور اور سَلسبیل کی نہریں رواں ہیں۔(1)
کَذٰلِکَ اَرْسَلْنٰکَ فِیۡۤ اُمَّۃٍ قَدْ خَلَتْ مِنۡ قَبْلِہَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَا۠ عَلَیۡہِمُ الَّذِیۡۤ اَوْحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ وَہُمْ یَکْفُرُوۡنَ بِالرَّحْمٰنِ ؕ قُلْ ہُوَ رَبِّیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ عَلَیۡہِ تَوَکَّلْتُ وَ اِلَیۡہِ مَتَابِ ﴿۳۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: اسی طرح ہم نے تم کو اس امت میں بھیجا جس سے پہلے امتیں ہو گزریں کہ تم انہیں پڑھ کر سناؤ جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی اور وہ رحمن کے منکر ہورہے ہیں تم فرماؤ وہ میرا رب ہے اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میری رجوع ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اسی طرح ہم نے تمہیں اس امت میں بھیجا جس سے پہلے کئی امتیں گزر گئیں تاکہ تم انہیں پڑھ کر سناؤ جو ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے حالانکہ وہ رحمن کے منکر ہورہے ہیں۔ تم فرماؤ : وہ میرا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے۔
{کَذٰلِکَ اَرْسَلْنٰکَ فِیۡۤ اُمَّۃٍ:اسی طرح ہم نے تمہیں اس امت میں بھیجا ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جس طرح آپ سے پہلے انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو گزشتہ امتوں کی طرف بھیجا اسی طرح آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو اس امت کی طرف بھیجاتو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی اُمت سب سے آخری اُمت ہے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَخاتَم الانبیاء ہیں، آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بڑی شان سے رسالت عطا کی تاکہ آپ اپنی امت کو قرآنِ پاک اور وہ شرعی احکام پڑھ کر سنائیں جو ہم نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰیعَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف وحی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۹، ۳/۶۵۔