اور موٹے کپڑوں کا ایک جوڑا اور ہر وہ چیز جس کا انسان کے باقی رہنے اور اس کی صحت کے لئے ہونا ضروری ہے اور اس کے ذریعے وہ علم و عمل تک پہنچتا ہے تو یہ (چیز) دنیا نہیں ہے کیونکہ یہ علم و عمل کے لئے مددگار ہے اور اس کے لئے وسیلہ ہے توانسا ن جب اسے علم و عمل پر مدد حاصل کرنے کے لئے اختیار کرتا ہے تو وہ دنیا کے لئے نہیں لیتا اور نہ ہی وہ اس وجہ سے دنیا دار کہلاتا ہے اور اگر (ان چیزوں سے) محض دنیا کا فوری فائدہ اور لذت مطلوب ہواور تقویٰ پر مدد کاحصول مقصودنہ ہو تو اب (ان چیزوں کا حصول) دنیا میں شمار ہو گا۔ (1)
مومن و کافراور فاسق و پرہیز گار کی زندگی میں فرق:
مومن و کافراور فاسق و پرہیز گار کی زندگیوں میں بڑا فرق ہے، بعض لوگ سوتے ہوئے بھی جاگتے ہیں اور بعض جاگتے ہوئے بھی سوتے ہیں۔ بعض جیتے جی مرے ہوئے ہیں اوربعض مر کر بھی زندہ ہیں۔
وَیَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوْلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ قُلْ اِنَّ اللہَ یُضِلُّ مَنۡ یَّشَآءُ وَیَہۡدِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنْ اَنَابَ ﴿ۖۚ۲۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور کافر کہتے ان پر کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے کیوں نہ اتری تم فرماؤ بیشک اللّٰہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اور اپنی راہ اسے دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع لائے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کافر کہتے ہیں: ان پر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری؟ تم فرماؤ: بیشک اللّٰہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور اسے اپنی راہ دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتاہے۔
{وَیَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا:اور کافر کہتے ہیں۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار ِمکہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کہتے تھے کہ آپ پر ویسی نشانی کیوں نہیں اتری جیسی حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر نازل ہوئی تاکہ وہ آپ کی صداقت پر نشانی اور دلیل ہوتی ۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان سے فرما دیں ’’بیشک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّجسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے کہ ایسا آدمی نشانیاں اور معجزات نازل ہونے کے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…احیاء العلوم، کتاب ذمّ الدنیا، بیان حقیقۃ الدنیا وماہیتہا فی حق العبد، ۳/۲۷۱۔