(1)…اللّٰہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا
’’وَلَوْ بَسَطَ اللہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰکِنۡ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ بِعِبَادِہٖ خَبِیۡرٌۢ بَصِیۡرٌ‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر اللّٰہ اپنے سب بندوں کیلئے رزق وسیع کردیتا تو ضرور زمین میں فساد پھیلاتے لیکن وہ ایک مقدار سے جتنا چاہتا ہے اتارتا ہے ، بیشک وہ بندوں سے خبردار،دیکھنے والاہے۔
(2)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میرے بعض مومن بندے ایسے ہیں کہ جن کے ایمان کی بھلائی مالدار ہونے میں ہے، اگر میں انہیں مالدار نہ کروں تو وہ کفر میں مبتلا ہو جائیں گے اور میرے بعض مومن بندے ایسے ہیں کہ ان کے ایمان کی بھلائی مالدار نہ ہونے میں ہے، اگر میں انہیں مالدار کر دوںتو وہ کفر میں مبتلا ہو جائیں گے۔ (2)
{ وَفَرِحُوۡا بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا:اور کا فر دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے۔} یعنی مشرکین پر جب اللّٰہ تعالیٰ نے رزق وسیع فرمایا تو انہوں نے شر پھیلانا شروع کر دیا اور وہ تکبر میں مبتلا ہو گئے حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک حقیر سی شے ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ دُنیوی نعمتوں پر فخریَہ خوش ہونا کفار کا طریقہ ہے اور ناجائز ہے جبکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے شکریہ کے طور پر خوش ہونامومنوں کا طریقہ ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے
’’قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوۡا‘‘ (3)
ترجمۂکنزُالعِرفان:تم فرماؤ: اللّٰہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے۔
دنیوی اور اُخروی زندگی میں فرق:
یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ دنیا کی زندگی وہ ہے جواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے غفلت میں گزرے، یہ بری ہے اور قرآن و حدیث میں اسی کی مذمت ہے اور جو زندگی آخرت کی تیار ی میں گزرے وہ بفضلہ تعالیٰ اُخروی زندگی ہے، یہی حیاتِ طیّبہ ہے ۔ امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’ہر وہ چیز جو آخرت کے اعمال پر مددگار ہو جیسے ضروری غذا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…الشوری:۲۷۔
2…ابن عساکر، حرف الکاف فی آباء من اسمہ ابراہیم، ابراہیم بن ابی کریمۃ الصیداوی، ۷/۹۶۔
3…یونس:۵۸۔