بعد بھی یہ کہتا رہتا ہے کہ کوئی نشانی کیوں نہیں اُتری ؟کوئی معجزہ کیوں نہیں آیا؟ الغرض کثیر معجزات دیکھنے کے باوجود گمراہ رہتا ہے لہٰذا اگر اللّٰہ تعالیٰ ہدایت نہ دے تواسے معجزات اور نشانیوں کی کثرت کوئی فائدہ نہ دے گی اور اللّٰہ تعالیٰ اپنی راہ اسے دکھاتا ہے جو دل سے اور کامل طور پر اللّٰہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے۔ (1)
اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوۡبُہُمۡ بِذِکْرِ اللہِ ؕ اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوۡبُ ﴿ؕ۲۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللّٰہ کی یاد سے چین پاتے ہیں سن لو اللّٰہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: (ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے) جو ایمان لائے اور ان کے دل اللّٰہ کی یاد سے چین پاتے ہیں، سن لو! اللّٰہ کی یاد ہی سے دل چین پاتے ہیں۔
{اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوۡبُ:سن لو! اللّٰہ کی یاد ہی سے دل چین پاتے ہیں۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت و فضل اور اس کے احسان و کرم کو یاد کرکے بے قرار دلوں کو قرار اور اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔ یونہی اللّٰہ تعالیٰ کی یاد محبت ِ الٰہی اور قرب ِ الٰہی کا عظیم ذریعہ ہے اور یہ چیزیں بھی دلوں کے قرار کا سبب ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ بھی کہا جائے تو یقینا درست ہوگا کہ ذکرِ الٰہی کی طبعی تاثیر بھی دلوں کا قرار ہے ، اسی لئے پریشان حال آدمی جب پریشانی میں اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تواس کے دل کو قرار آنا شروع ہوجاتا ہے ،یونہی قرآن بھی ذِکْرُ اللّٰہ ہے اور اس کے دلائل دلوں سے شکوک و شبہات دور کرکے چین دیتے ہیں ، یونہی دعا بھی ذِکْرُ اللّٰہ ہے اور اس سے بھی حاجتمندوں کو سکون ملتا ہے اور اسمائے الٰہی اور عظمتِ الٰہی کا تذکرہ بھی ذِکْرُ اللّٰہ ہے اور اس سے بھی محبانِ خدا کے دلوں کو چین ملتا ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ کے ذکر سے متعلق دو اہم باتیں:
(1)…امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: حضرت عثمان مغربی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے ان کے ایک مرید نے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۷، ۳/۶۵، روح البیان، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۷،۴/۳۷۲، ابوسعود، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۷، ۳/۱۶۳، ملتقطاً۔