Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
111 - 601
مندوں کے احوال اور جو کرامتیں اور بھلائیاں ان کے لئے تیار فرمائی ہیں ان کا ذکر فرمایا، اس کے بعد اللّٰہ تعالیٰ بد بختوں کے احوال اور ان کے لئے جو سزائیں تیار فرمائی ہیں ان کا ذکر فرما رہا ہے۔ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا اعتراف کر کے اور ایمان لانے کا عہد قبول کر کے اللّٰہ تعالیٰ کے ا س حکم کی مخالفت کرتے ہیں اوراللّٰہ تعالیٰ نے جو صلہ رحمی کرنے اور رشتہ داری جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے توڑتے ہیں ،کفر اور گناہوں کا ارتکاب کر کے زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کے لئے قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری ہے اور اُن کیلئے برا گھر یعنی جہنم ہے۔ (1)
اَللہُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَیَقْدِرُ ؕ وَفَرِحُوۡا بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ؕ وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا فِی الۡاٰخِرَۃِ اِلَّا مَتَاعٌ ﴿٪۲۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ جس کے لیے چاہے رزق کشادہ اور تنگ کرتا ہے اور کا فر دنیا کی زندگی پر اترا گئے اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابل نہیں مگر کچھ دن برت لینا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق وسیع کردیتا ہے اور تنگ کردیتا ہے اور کا فر دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک حقیر سی شے ہے۔
{اَللہُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ:اللّٰہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق وسیع کردیتا ہے۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ اپنے فضل سے بندوں میں سے جسے چاہے وسیع رزق دے کر غنی کر دیتا ہے اور جسے چاہے اس کے رزق میں تنگی فرما کر اسے فقیر بنا دیتا ہے۔ (2) 
رزق میں برابری نہ ہونے کی حکمتیں:
	یاد رہے کہ دنیا میں اللّٰہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک جیسارزق عطا نہیں فرمایا ،بعض لوگ غریب ہیں ،بعض مُتَوسِّط اور بعض امیر، اس میں اللّٰہ تعالیٰ کی بے شمار حکمتیں ہیں، ان میں سے دو حکمتیں یہاں ذکر کی جاتی ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۵، ۳/۶۴-۶۵، ملخصاً۔
2…خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۶، ۳/۶۵۔