نے صبر کیا تو آخر ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔
{جَنّٰتُ عَدْنٍ:وہ ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں۔ }یعنی اوپر والی آیات میں مذکور اوصاف کے حامل حضرات ہمیشہ قائم و دائم رہنے والے باغات میں داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادا ،بیویوں اور اولاد میں سے وہ لوگ بھی ان باغات میں داخل ہوں گے جو ایمان لائے اگرچہ اُن لوگوں نے اِن حضرات جیسے عمل نہ کئے ہوں جب بھی اللّٰہ تعالیٰ اِن کے اکرام کے لئے باپ دادا وغیرہ کو اِن کے درجہ میں داخل فرمائے گا اور ان کے پاس فرشتے روزانہ دن اور رات میں تین مرتبہ تحائف اور اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کی بشارتیں لے کر جنت کے ہر دروازے سے تعظیم و تکریم کرتے ہوئے آئیں گے اور کہیں گے’’ تم پر سلامتی ہو ، یہ اس کا ثواب ہے جو تم نے گناہوں سے بچنے اور اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے پر صبر کیا تو آخر ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔ (1)
وَالَّذِیۡنَ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَ اللہِ مِنۡۢ بَعْدِ مِیۡثَاقِہٖ وَیَقْطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَیُفْسِدُوۡنَ فِی الۡاَرْضِ ۙ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ اللَّعْنَۃُ وَلَہُمْ سُوۡٓءُ الدَّارِ ﴿۲۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور وہ جو اللّٰہ کا عہد اس کے پکے ہونے کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللّٰہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور اُن کا نصیبہ بُرا گھر۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ جو اللّٰہ کا عہد اسے پختہ کرنے کے بعد توڑدیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللّٰہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر ہے۔
{وَالَّذِیۡنَ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَ اللہِ:اور وہ جو اللّٰہ کا عہد توڑ دیتے ہیں۔} اس سے پہلی آیات میں اللّٰہ تعالیٰ نے سعادت
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۳، ۳/۶۴، مدارک، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۳، ص۵۵۶، جلالین، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۳-۲۴، ص۲۰۳، ملتقطاً۔