اس لئے انہیں چاہئے کہ خرچ کرنے میں اپنی ذات یا مخلوق کا لحاظ نہ رکھیں بلکہ وکیل بنانے والی ذات رب تعالیٰ کی رضا کا لحاظ رکھیں اور لوگوں کی طرف سے شکریے اور تعریف کا لالچ نہ رکھیں بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب ملنے کی امید رکھیں۔
{وَیَدْرَءُوۡنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ:اور برائی کو بھلائی کے ساتھ ٹالتے ہیں۔} یعنی برائی کو بھلائی سے ٹالتے ہیںاور بدکلامی کا جواب شیریں سُخنی سے دیتے ہیں اور جو انہیں محروم کرتا ہے اس پر عطا کرتے ہیں جب اُن پر ظلم کیا جاتا ہے تو معاف کرتے ہیں، جب اُن سے تعلق توڑا جاتا ہے تو ملاتے ہیں اور جب گناہ کربیٹھیں تو توبہ کرتے ہیں، جب ناجائز کام دیکھتے ہیں تو اُسے بدل دیتے ہیں ،جہل کے بدلے حِلم اور ایذا کے بدلے صبر کرتے ہیں۔ (1) سُبْحَانَ اللّٰہ! یہ کتنے پیارے اوصاف ہیں،دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو یہ اوصاف اپنانے کی توفیق عطا فرمائے ۔
{اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عُقْبَی الدَّارِ:انہیں کے لئے آخرت کا اچھا انجام ہے۔} یعنی جو یہ نیک اعمال بجا لائے گا اس کے لئے آخرت کا اچھا انجام یعنی جنت ہے۔ (2)
جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوۡنَہَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِہِمْ وَاَزْوَاجِہِمْ وَذُرِّیّٰتِہِمْ وَالۡمَلٰٓئِکَۃُ یَدْخُلُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ کُلِّ بَابٍ ﴿ۚ۲۳﴾ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ﴿ؕ۲۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: بسنے کے باغ جن میں وہ داخل ہوں گے اور جو لائق ہوں ان کے باپ دادا اور بی بیوں اور اولاد میں اور فرشتے ہر دروازے سے ان پر یہ کہتے آئیں گے۔ سلامتی ہو تم پر تمہارے صبر کا بدلہ تو پچھلا گھر کیا ہی خوب ملا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں ان میں وہ لوگ داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادا اور بیویوں اور اولاد میں سے جولائق ہوں گے اور ہر دروازے سے فرشتے ان کے پاس یہ کہتے آئیں گے۔ تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۲، ص۵۵۶۔
2…خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۲، ۳/۶۴۔