Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
108 - 601
	سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اللّٰہ تعالیٰ قیامت کے دن ہر مخلوق کو جمع فرمائے گا تو ایک اعلان کرنے والا یہ اعلان کرے گا کہ فضیلت والے کہاں ہیں؟ کچھ لوگ کھڑے ہوں گے اور جلدی جلدی جنت کی طرف چلنا شروع کر دیں گے۔ فرشتے ان سے ملاقات کر کے دریافت کریں گے ’’ہم تمہیں جنت کی طرف تیزی سے جاتا ہو ادیکھ رہے ہیں، تم کون ہو؟ وہ کہیں گے ’’ہم فضیلت والے ہیں؟فرشتے کہیں گے ’’تمہاری فضیلت کیا ہے؟ وہ کہیں گے ’’ہم پر جب ظلم کیا جاتا تو ہم صبر کرتے تھے، جب ہم سے برا سلوک کیا جاتا تو ہم درگزر کرتے تھے۔ جب ہم سے جہالت کا برتاؤ کیا جاتا تو ہم برداشت کرتے تھے۔ فرشتے کہیں گے ’’جنت میں داخل ہو جاؤ کہ عمل کرنے والوں کا اجر بہت اچھا ہے۔ پھر اعلان کرنے والا یہ اعلان کرے گا کہ صبر کرنے والے کہاں ہیں؟ کچھ لوگ کھڑے ہوں گے اور جلدی جلدی جنت کی طرف چلنا شروع کر دیں گے۔ فرشتے ان سے ملاقات کر کے دریافت کریں گے ’’ہم تمہیں جنت کی طرف تیزی سے جاتا ہو ادیکھ رہے ہیں، تم کون ہو؟ وہ کہیں گے ’’ہم صبر کرنے والے ہیں۔ فرشتے پوچھیں گے ’’تمہارا صبر کیا تھا؟ وہ کہیں گے ’’ہم اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے پر اور اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے سے صبر کیا کرتے تھے ۔ فرشتے کہیں گے ’’جنت میں داخل ہو جاؤ کہ عمل کرنے والوں کا اجر بہت اچھا ہے۔ (1)
{وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ:اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے ہماری راہ میں خرچ کیا ۔} حضرت حسن رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’اس سے مراد فرض زکوٰۃ دینا ہے۔ اگر زکوٰۃ ادا نہ کرنے کی تہمت لگنے کا اندیشہ نہ ہو تو چھپا کر زکوٰۃ ادا کرنا بہتر ہے اور اگر زکوٰۃ ادا نہ کرنے کی تہمت لگنے کا اندیشہ ہو تو بہتر یہ کہ اعلانیہ زکوٰۃ ادا کرے۔ ایک قول یہ ہے کہ چھپا کر زکوٰۃ دینے سے مراد وہ ہے جو اپنی ذاتی نکال رہا ہے اور اعلانیہ دینے سے مراد وہ ہے جوبادشاہ کو دے رہا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ چھپا کر دینے سے مراد نفلی صدقات ہیں اور اعلانیہ دینے سے مراد فرض زکوٰۃ ہے۔ (2)
راہِ خدا میں خرچ کرنے سے اللّٰہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو:
	اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے خرچ کرنے کی نسبت لوگوں کی طرف اور رزق دینے کی نسبت اپنی ذات کی طرف فرمائی، اس سے معلوم ہوا کہ لوگ اللّٰہ تعالیٰ کی عطا میں اس کے وکیل ہیں اور اس عطا میں تَصَرُّف کرنے کا اختیار رکھتے ہیں 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…المطالب العالیہ، کتاب الفتن، باب شفاعۃ المؤمنین، ۸/۷۰۲، الحدیث: ۴۵۷۸۔
2…خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۲، ۳/۶۳۔