Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
107 - 601
یہ ہے کہ شہوات یعنی نفسانی خواہشات سے صبر کرنا کیونکہ یہ اولیاء اور صدیقین کا مرتبہ ہے۔ (1)
صبر کی اَقسام:
	آیت میں اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کی طلب میں صبر کرنے کی قید لگائی گئی، اس کی وجہ یہ ہے کہ صبر کی دوقسمیں ہیں۔
(1)…مذموم صبر۔ انسان کبھی صبر اس لئے کرتا ہے تاکہ اس کے بارے میں کہا جائے کہ مصیبتیں برداشت کرنے پر اس کا صبر کتنا کامل اور مضبوط ہے اور کبھی ا س لئے صبر کرتا ہے تاکہ لوگ بے صبری کا مظاہرہ کرنے پر اسے ملامت نہ کریں اور دشمن ا س کی بے صبری پر نہ ہنسیں۔ ان تمام اُمور میں اگرچہ ظاہری طور پر صبر ہی کیا جارہا ہے لیکن یہ اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کی طلب میں نہیں بلکہ غیرُ اللّٰہ کے لئے کیا گیا ہے،اس لئے یہ صبر مذموم ہیں اور اس آیت کے تحت داخل نہیں۔
(2)…قابلِ تعریف صبر۔ یہ وہ صبر ہے کہ جو انسان اللّٰہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کرے اور جو مصیبتیں نازل ہوئیں ان پر صبر کرنے کا اجر و ثواب اللّٰہ تعالیٰ ہی سے طلب کرے۔ یہی صبر ا س آیت کے تحت داخل ہے یعنی انہوں نے نازل ہونے والی مصیبتوں پر اللّٰہ تعالیٰ کی تعظیم کی وجہ سے اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے صبر کیا۔ (2)
 رضائے الٰہی کے لئے صبر کرنے کی فضیلت:
	اللّٰہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے صبر کرنے کی بہت فضیلت ہے، اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
’’وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ﴿۱۵۵﴾ۙ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتْہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ‘‘ (3)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللّٰہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔
	حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے’’جب میں اپنے کسی بندے کو دو محبوب چیزوں (یعنی آنکھوں) کے ذریعے آزماتا ہوں، پھر وہ صبر کرے توان کے بدلے میں اسے جنت دیتا ہوں۔ (4)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جلالین مع صاوی، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۲، ۳/۱۰۰۱۔
2…خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۲، ۳/۶۳۔
3…البقرہ:۱۵۵،۱۵۶۔
4…بخاری، کتاب المرضی، باب فضل من ذہب بصرہ، ۴/۶، الحدیث: ۵۶۵۳۔