Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
106 - 601
و کتاب کے رجسٹر میں بھی۔پھر جب نفس قرضدار ٹھہرا تو ممکن ہے کہ اس سے قرض وصول کرے ، کچھ تاوان کے ذریعے، کچھ اس کی واپسی سے اور بعض کے حوالے سے اسے سزا دے اور یہ سب کچھ حساب کی تحقیق کے بعد ہی ممکن ہے تاکہ جس قدر واجب باقی ہے اس کی تمیز ہو سکے اور جب یہ بات معلوم ہو جا ئے تو اب اس سے مطالبہ اور تقاضا کرنا چاہئے اور اسے چاہئے کہ اپنے تمام ظاہری اور باطنی اَعضاء کے حوالے سے اپنے نفس سے ایک ایک دن کی ہر گھڑی کا حساب کرے۔(1) 
	اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
وَالَّذِیۡنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْہِ رَبِّہِمْ وَ اَقَامُوۡا الصَّلٰوۃَ وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ سِرًّا وَّعَلَانِیَۃً وَّیَدْرَءُوۡنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عُقْبَی الدَّارِ ﴿ۙ۲۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور وہ جنہوں نے صبر کیا اپنے رب کی رضا چاہنے کو اور نماز قائم رکھی اور ہمارے دیئے سے ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر کچھ خرچ کیا اور برائی کے بدلے بھلائی کرکے ٹالتے ہیں انہیں کے لیے پچھلے گھر کا نفع ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ جنہوں نے اپنے رب کی رضا کی طلب میں صبر کیا اور نماز قائم رکھی اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے ہماری راہ میں پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کیا اور برائی کو بھلائی کے ساتھ ٹالتے ہیں انہیں کے لئے آخرت کا اچھا انجام ہے۔
{وَالَّذِیۡنَ صَبَرُوا:اور وہ جنہوں نے صبر کیا ۔} یعنی نیکیوں اور مصیبتوں پر صبر کیا اور گناہوں سے باز رہے۔
صبر کے 3 مَراتِب:
	علامہ صاوی  رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں’ ’صبر کے تین مرتبے ہیں۔ (1)گناہ سے صبر کرنا یعنی گناہ سے بچنا۔ (2) نیکیوں پر صبرکرنا یعنی اپنی طاقت کے مطابق ہمیشہ نیک اعمال کرنا۔ (3) مصیبتوں پر صبر کرنا۔ ان سب سے اعلیٰ مرتبہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…احیاء العلوم، کتاب المراقبۃ والمحاسبۃ، بیان حقیقۃ المحاسبۃ بعد العمل، ۵/۱۳۹۔