’’یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَ لْتَنۡظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللّٰہ سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ اس نے کل (قیامت) کے لیے آگے کیا بھیجا ہے ۔
حضرت شداد بن اوس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،حضور پُر نورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’عقلمند وہ شخص ہے جو اپنا محاسبہ کرے اورموت کے بعد کے لئے عمل کرے، جبکہ عاجز وہ ہے جو اپنے آپ کو خواہشات کے پیچھے لگا دے اور اللّٰہ تعالیٰ سے امید رکھے۔ (2)
امام ترمذی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس حدیث میں مذکور الفاظ ’’مَنْ دَانَ نَفْسَہٗ‘‘ کا مطلب قیامت کے حساب سے پہلے (دنیا ہی میں) نفس کا محاسبہ کرنا ہے۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ اپنے نفسوں کا محاسبہ کرو ا س سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے اور بڑی پیشی کے لئے تیار ہو جاؤ۔ قیامت کے دن اس آدمی کا حساب آسان ہو گا جس نے دنیا ہی میں اپنا حساب کر لیا۔ حضرت میمون بن مہران رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ بندہ اس وقت تک پرہیز گار شمار نہیں ہوتا جب تک اپنے نفس کا ایسے محاسبہ نہ کرے جیسے اپنے شریک سے کرتا ہے کہ اس نے کہاں سے کھایا اور کہاں سے پہنا۔ (3)
امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’جس طرح تاجر دنیا میں ایک ایک پیسے کا حساب کر کے کمی زیادتی کے راستوں کی حفاظت کرتا ہے حتّٰی کہ اسے اس میں کچھ بھی نقصان نہیں ہوتا تو اسے چاہئے کہ نفس کے معمولی سے نقصان اور مکر وفریب سے بھی بچے کیونکہ یہ بڑا دھوکے باز اور مکار ہے لہٰذا پہلے اس سے پورے دن کی گفتگو کا صحیح جواب طلب کرے اور اپنے نفس سے اس بات کا خود حساب لے جس کا قیامت کے دن دوسرے لیں گے، اسی طرح نظر بلکہ دل کے خیالات اور وسوسوں، اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے ، سونے حتّٰی کہ خاموشی کا حساب بھی لے کہ اس نے خاموشی کیوں اختیار کی تھی اور سکون کے بارے میں پوچھ گچھ کرے کہ اس کا کیا مقصد تھا، جب ان تمام باتوں کا علم ہو جائے جو نفس پر واجب تھیں اور اس کے نزدیک صحیح طور پر ثابت ہو جائے کہ کس قدر واجب کی ادائیگی ہوئی ہے تو اس قدر کا حساب ہو گیا، اب جو باقی رہ گیا اسے نفس کے ذمہ لکھ لے اور اسے دل کے کاغذ پر بھی لکھ دے جیسے اپنے شریک کے ذمہ باقی حساب کو دل پر بھی لکھتا ہے اور حساب
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…الحشر:۱۸۔
2…ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ۲۵-باب، ۴/۲۰۷، الحدیث: ۲۴۶۷۔
3…ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ۲۵-باب، ۴/۲۰۷۔