Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
104 - 601
	ایک مقام پر ارشاد فرمایا
’’ وَالْاٰخِرَۃُ عِنۡدَ رَبِّکَ لِلْمُتَّقِیۡنَ‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور آخرت تمہارے رب کے پا س پرہیزگاروں کے لیے ہے۔
	ایک جگہ ارشاد فرمایا
’’اِنَّ الْمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ‘‘ (2) 
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ڈر نے والے باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔
	حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جس مومن بندے کی آنکھوں سے اللّٰہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے آنسو نکلیں اگرچہ وہ مکھی کے سر کے برابر ہوں ، پھر وہ آنسو بہہ کر اس کے چہرے پر آ جائیں تو اللّٰہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے۔ (3)
	حضرت عباس بن عبد المطلبرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جب اللّٰہ تعالیٰ کے خوف سے بندے کا بدن لرزنے لگے تو اس کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے سوکھے ہوئے درخت سے اس کے پتے جھڑتے ہیں (4)۔ (5)
{وَیَخَافُوۡنَ سُوۡٓءَ الۡحِسَابِ:اور برے حساب سے خوفزدہ ہیں۔} یعنی خصوصی طور برے حساب سے خوفزدہ ہیں اور حساب کا وقت آنے سے پہلے خود اپنے نفسوں سے محاسبہ کرتے ہیں۔ (6)
اعمال کا محاسبہ کرنے کی ترغیب:
	عقلمند انسان وہی ہے کہ جواپنے اعمال کا محاسبہ کرتا رہے اور نفس و شیطان کے بہکاوے میں آ کر اپنے اعمال کے محاسبے سے غافل نہ ہو۔ قرآن و حدیث میں اپنے اعمال کے محاسبے کی بہت ترغیب دی گئی ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…الز خرف:۳۵۔	2…الحجر:۴۵۔
3…ابن ماجہ، الزہد، باب الحزن والبکاء ،۴/۴۶۷، الحدیث: ۴۱۹۷۔
4…شعب الایمان، الحادی عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۱/۴۹۱، الحدیث: ۸۰۳۔
5…اللّٰہ تعالیٰ کا خوف رکھنے سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب’’خوف ِخدا‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں۔
6…مدارک، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۱، ص۵۵۶۔