Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
103 - 601
وہ بہتر ہے، جو اپنے پڑوسی کا خیر خواہ ہو۔ (1)
(6)… حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، حضور پُر نورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے ظالم کے حوالے کرے۔ جو شخص اپنے بھائی کی حاجت روائی میں رہتا ہے تواللّٰہعَزَّوَجَلَّ اس کی حاجت روائی میں رہتا ہے ۔ جو شخص مسلمان سے کسی ایک تکلیف کو دور کردے تو اللّٰہ تعالیٰ قیامت کی تکالیف میں سے ا س کی ایک تکلیف دور کردے گا ۔ جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللّٰہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ (2)
(7)…حضرت معاذ بن انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسول کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جس نے کسی منافق کے مقابلے میں مومن کی حمایت کی تو اللّٰہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی حمایت میں ایک فرشتہ کھڑ ا کرے گا جو اسے دوزخ کی آگ سے بچائے گا اور جو کسی مسلمان کو ذلیل کرنے کی غرض سے اس پر الزام لگائے تو اللّٰہ تعالیٰ اسے جہنم کے پل پر روک لے گا یہاں تک کہ وہ اپنے کہنے کے مطابق عذاب پا لے۔ (3)
{ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ:اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔}یعنی اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو پورا کرنے اور صلہ رحمی وغیرہ جن چیزوں کا اللّٰہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے انہیں بجا لانے کے ساتھ ساتھ اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرتے بھی ہوں۔ (4)
خوفِ خدا کے فضائل:
	قرآن و حدیث میں اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرنے کے فضائل بکثرت بیان کئے گئے ہیں۔ترغیب کے لئے چند آیات اور اَحادیث بیان کی جاتی ہیں۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے
’’وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ‘‘ (5)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ترمذی، کتاب البرّ والصلۃ، باب ما جاء فی حقّ الجوار، ۳/۳۷۹، الحدیث: ۱۹۵۱۔
2…بخاری، کتاب المظالم والغصب، باب لا یظلم المسلم المسلم ولا یسلمہ، ۲/۱۲۶، الحدیث: ۲۴۴۲۔
3…ابو داؤد، کتاب الادب، باب من ردّ عن مسلم غیبۃ،  ۴/۳۵۴، الحدیث: ۴۸۸۳۔
4…خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۱، ۳/۶۳۔
5…رحمن: ۴۶۔