Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
101 - 601
شامل ہیں جو حضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے نقشِ قدم پر چلیں گے اور ان جیسی صفات اپنائیں گے یونہی ابو جہل کے لئے وعید کی آیات میں قیامت تک آنے والے وہ تما م افراد داخل ہیں جو ابو جہل کے نقش قدم پر چلیں گے۔ (1) 
{اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الۡاَلْبَابِ:صرف عقل والے ہی نصیحت مانتے ہیں۔} یعنی قرآن کی نصیحتیں وہی قبول کرتے ہیں اور ان نصیحتوں پر وہی عمل کرتے ہیں جو عقلمند ہیں اور ان کی عقل وہم کے عارضے سے صاف ہے۔ (2)
{اَلَّذِیۡنَ یُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِ اللہِ:وہ جو اللّٰہ کا عہد پورا کرتے ہیں۔} یعنی آخرت کا اچھا انجام انہیں کے لئے ہے جو اللّٰہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد پورا کرتے ہیں کہ اس کی ربوبیت کی گواہی دیتے ہیں اور اس کا حکم مانتے ہیں ۔ اللّٰہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد اور ان معاہدوں کو توڑتے نہیں جو انہوں نے لوگوں کے ساتھ کئے ہوئے ہیں۔ (3)
وَالَّذِیۡنَ یَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ وَیَخَافُوۡنَ سُوۡٓءَ الۡحِسَابِ ﴿ؕ۲۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور وہ کہ جوڑتے ہیں اسے جس کے جوڑنے کا اللّٰہ نے حکم دیا اور اپنے رب سے ڈرتے اور حساب کی بُرائی سے اندیشہ رکھتے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ جواسے جوڑتے ہیں جس کے جوڑنے کا اللّٰہ نے حکم دیا اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور برے حساب سے خوفزدہ ہیں۔ 
{وَالَّذِیۡنَ یَصِلُوۡنَ:اور وہ جو جوڑتے ہیں۔}  اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی تمام کتابوں اور اس کے کل رسولوں پر ایمان لاتے ہیں ،بعض کو مان کر اور بعض سے منکر ہو کر ان میں تفریق نہیں کرتے ۔یا یہ معنی ہے کہ رشتہ داری کے حقوق کی رعایت رکھتے ہیں اور رشتہ داری نہیں توڑتے۔ اسی میں رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی قرابتیں اور 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1…صاوی، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۹، ۳/۱۰۰۰۔
2…روح البیان، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۹، ۴/۳۶۳۔
3…روح البیان، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۰، ۴/۳۶۳۔