اَفَمَنۡ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ الْحَقُّ کَمَنْ ہُوَ اَعْمٰی ؕ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الۡاَلْبَابِ ﴿ۙ۱۹﴾ الَّذِیۡنَ یُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِ اللہِ وَلَا یَنۡقُضُوۡنَ الْمِیۡثَاقَ ﴿ۙ۲۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو کیا وہ جو جانتا ہے جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا حق ہے وہ اس جیسا ہوگا جو اندھا ہے نصیحت وہی مانتے ہیں جنہیں عقل ہے۔وہ جو اللّٰہ کا عہد پورا کرتے ہیں اور قول باندھ کر پھرتے نہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ آدمی جو یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے تو کیا وہ اس جیسا ہے جو اندھا ہے؟صرف عقل والے ہی نصیحت مانتے ہیں۔وہ جو اللّٰہ کا عہد پورا کرتے ہیں اور معاہدے کو توڑتے نہیں۔
{اَفَمَنۡ یَّعْلَمُ:تو کیا وہ جو جانتا ہے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ آدمی جو یہ جانتا ہے کہ جو کچھ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپراللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، وہ حق ہے اور وہ اس پر ایمان لاتا اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے تو کیا وہ اس جیسا ہے جودل کا اندھا ہے؟ جوحق کو جانتا ہے نہ قرآن پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کے مطابق عمل کرتا ہے۔حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں’’ یہ آیت حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی۔ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت حضرت عمار بن یاسر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی ۔ (1)
علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں’’ان آیات میں اگرچہ حضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی اچھی صفات پر ان کی تعریف کی گئی اور ان صفات کے بدلے بھلائی کا وعدہ فرمایا گیا اور ابو جہل کی بری صفات کی مذمت کی گئی اور ان بری صفات کے بدلے برے انجام کی وعید سنائی گئی لیکن چونکہ اعتبار الفاظ کے عموم کا ہوتا ہے نہ کہ سبب ِنزول کی خصوصیت کا لہٰذاحضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے لئے وعدے کی آیات میں قیامت تک آنے والے وہ تمام لوگ بھی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ1…خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۹، ۳/۶۲۔