Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
99 - 881
بِالْمَوَدَّةِ ﳓ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْؕ-وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ(۱)
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں  کو دوست نہ بناؤ تم انہیں  خبریں  پہنچاتے ہو دوستی سے حالانکہ وہ منکر ہیں  اس حق کے جو تمہارے پاس آیا گھر سے جدا کرتے ہیں  رسول کو اور تمہیں  اس پر کہ تم اپنے رب اللّٰہ پر ایمان لائے اگر تم نکلے ہو میری راہ میں  جہاد کرنے اور میری رضا چاہنے کو تو ان سے دوستی نہ کرو تم انہیں  خفیہ پیام محبت کا بھیجتے ہو اور میں  خوب جانتا ہوں  جو تم چھپاؤ اور جو ظاہر کرو اور تم میں  جو ایسا کرے وہ بیشک سیدھی راہ سے بہکا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں  کو دوست نہ بناؤ ،تم انہیں  دوستی کی وجہ سے خبریں  پہنچاتے ہو حالانکہ یقینا وہ اس حق کے منکر ہیں جو تمہارے پاس آیا، وہ رسول کو اور تمہیں  اس بنا پر نکالتے ہیں  کہ تم اپنے رب اللّٰہ پر ایمان لائے، اگر تم میری راہ میں  جہاد کرنے اور میری رضا طلب کرنے کیلئے نکلے تھے (تو ان سے دوستی نہ کرو) تم ان کی طرف محبت کا خفیہ پیغام بھیجتے ہو اور میں  ہر اس چیز کوخوب جانتا ہوں  جسے تم نے چھپایا اور جسے تم نے ظاہر کیا اور تم میں  سے جو یہ (دوستی) کرے توبیشک وہ سیدھی راہ سے بہک گیا۔
{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ: اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں  کو دوست نہ بناؤ۔} شانِ نزول: بنی ہاشم کے خاندان کی ایک باندی ’’سارہ‘‘ مدینہ منورہ میں  سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں اس وقت حاضر ہوئی جب آپ فتحِ مکہ کی تیاری فرمارہے تھے۔ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے فرمایا’’ کیا تو مسلمان ہو کر آئی ہے؟ اُس نے کہا: نہیں ۔ارشاد فرمایا’’ کیا ہجرت کرکے آئی ہے؟اس نے عرض کی: نہیں ۔ارشاد فرمایا’’ پھر کیوں  آئی ہو؟ اُس نے عرض کی:محتاجی سے تنگ ہو کرآئی ہوں ۔حضرت عبدالمطلب کی اولاد نے اس کی امداد کرتے ہوئے کپڑے بنائے اور سامان دیا۔حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اُس سے ملے تو اُنہوں  نے اسے دس دینار دئیے، ایک چادر دی اوراس کی معرفت ایک خط اہلِ مکہ کے پاس بھیجا جس کا مضمون یہ