انہوں نے اپنی مشرک قوم سے بیزاری کا اظہار کیا تاکہ مسلمان حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سیرت کو اپنے لئے مشعلِ راہ بنائیں ۔
(3) …یہودیوں اور مشرکوں سے تعلُّقات کے بارے میں اصول بیان کئے گئے اور مدینہ منورہ ہجرت کر کے پہنچنے والی مومنہ عورتوں کا امتحان لینے کا حکم دیاگیا اور ان کے بارے میں شرعی حکم بیان کیا گیا۔
(4) …اس سورت کے آخر میں مسلمانوں کو یہودیوں کے ساتھ دوستی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
سورۂ حشر کے ساتھ مناسبت:
سورۂ مُمْتَحِنَہْ کی اپنے سے ما قبل سورت ’’حشر ‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ دونوں سورتوں میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے اہل ِکتاب اور کفار و مشرکین کے ساتھ تعلقات کیسے ہونے چاہئیں ۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، رحمت والاہے ۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّۚ-یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْؕ-اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ ﳓ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ