Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
100 - 881
تھا:حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تم پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ، تم سے اپنے بچاؤ کی جو تدبیر ہوسکے کرلو۔ سارہ یہ خط لے کر روانہ ہوگئی۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اس کی خبر دی تو حضور اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے چند اَصحاب کو جن میں  حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم بھی تھے ،گھوڑوں  پر روانہ کیا اور فرمایا’’روضہِ خاخ کے مقام پر تمہیں  ایک مسافر عورت ملے گی، اس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہ کا خط ہے جو اہلِ مکہ کے نام لکھا گیا ہے، وہ خط اس سے لے لو اور اس کو چھوڑ دو، اگر خط دینے سے انکارکرے تو اس کی گردن ماردو۔یہ حضرات روانہ ہوئے اور عورت کو ٹھیک اسی مقام پر پایا جہاں  حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا تھا ،اس سے خط مانگا تووہ انکار کر گئی اور قسم کھا گئی۔ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے واپسی کا ارادہ کیا تو حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے قسم کھا کر فرمایا: سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خبر واقع کے خلاف ہوہی نہیں  سکتی ،پھر تلوار کھینچ کر عورت سے فرمایاـ: تو خط نکال دے ورنہ میں  تیری گردن اڑا دوں  گا۔ جب اُس نے دیکھا کہ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم قتل کرنے پر بالکل آمادہ ہیں  تو اس نے اپنے جُوڑے میں  سے خط نکال کر دے دیا۔جب یہ حضرات خط لے کر واپس پہنچے تو حضور اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت حاطب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بلا کر فرمایا’’ اے حاطب! خط لکھنے کی وجہ کیا تھی؟اُنہوں  نے عرض کی: یا رسول  اللّٰہ!صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، میں  جب سے اسلام لایا ہوں  تب سے کبھی میں  نے کفر نہیں  کیا اور جب سے حضور کی نیاز مندی مُیَسَّر آئی ہے تب سے کبھی آپ کے ساتھ خیانت نہ کی اور جب سے اہلِ مکہ کو چھوڑا ہے تب سے کبھی اُن کی محبت دل میں  نہ آئی ،لیکن واقعہ یہ ہے کہ میں  قریش میں  رہتا تھا اور اُن کی قوم میں  سے نہ تھا، میرے سوادوسرے مہاجرین کے مکہ مکرمہ میں  رشتہ دار ہیں  جو ان کے گھر بار کی نگرانی کرتے ہیں  (لیکن میرا وہاں  کوئی رشتہ دار نہیں ) مجھے اپنے گھر والوں  کے بارے اندیشہ تھا اس لئے میں  نے یہ چاہا کہ میں  اہلِ مکہ پر کچھ احسان رکھ دوں  تاکہ وہ میرے گھر والوں  کو نہ ستائیں  اور یہ بات میں  یقین سے جانتا ہوں  کہ اللّٰہ تعالیٰ اہلِ مکہ پر عذاب نازل فرمانے والا ہے،میرا خط انہیں  بچا نہ سکے گا۔تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اُن کا یہ عذر قبول فرمایا اور ان کی تصدیق کی۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: یا رسول  اللّٰہ !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، مجھے اجازت دیجئے تاکہ اس منافق کی گردن ماردوں ۔ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اے عمر! رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ، اللّٰہ تعالیٰ خبردار ہے جب ہی اُس نے اہلِ بدر کے حق میں  فرمایا کہ جو چاہو کرو میں  نے تمہیں