Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
93 - 881
خَشْیَةِ اللّٰهِؕ-وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۲۱)
ترجمۂکنزالایمان: اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اُتارتے تو ضرور تو اُسے دیکھتا جھکا ہوا پاش پاش ہوتا اللّٰہ کے خوف سے اور یہ مثالیں  لوگوں  کے لیے ہم بیان فرماتے ہیں  کہ وہ سوچیں ۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے تو ضرور تم اسے جھکا ہوا، اللّٰہکے خوف سے پاش پاش دیکھتے اور ہم یہ مثالیں  لوگوں  کے لیے بیان فرماتے ہیں  تاکہ وہ سوچیں ۔
{لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ: اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے۔} یعنی قرآنِ مجید کی عظمت و شان ایسی ہے کہ اگر ہم اسے کسی پہاڑ پر اتارتے اور اُس کو انسان کی سی تمیز عطا کرتے تو انتہائی سخت اور مضبوط ہونے کے باوجود تم اسے ضرورجھکا ہوا اور اللّٰہ تعالیٰ کے خوف سے پاش پاش دیکھتے ،ہم یہ اور اس جیسی دیگر مثالیں  لوگوں  کے لیے بیان فرماتے ہیں  تاکہ وہ سوچیں  (اور خیال کریں  کہ جب ہم اشرف المخلوقات ہیں  تو چاہیے کہ ہمارے اعمال بھی اشرف و اعلیٰ ہوں ۔)( مدارک، الحشر، تحت الآیۃ: ۲۱، ص۱۲۲۸، خازن، الحشر، تحت الآیۃ: ۲۱، ۴/۲۵۳، ملتقطاً)
	نوٹ:یاد رہے کہ یہاں  آیت میں  قرآن سے مراد اللّٰہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اتارنے سے مراد اس کلام کو اس کی عظمت کے ظہور کے ساتھ اتارنا مراد ہے یعنی اگر ہم قرآنِ مجید کو اس کی عظمت ظاہر کرتے ہوئے پہاڑ پر اُتار دیتے تو وہ ا س کی تاب نہ لاتا اور پھٹ جاتا۔ 
 	اس آیت سے اشارۃً معلوم ہوا کہ حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا قلب شریف پہاڑسے زیادہ قو ی اور مضبوط ہے کیونکہ آپ کو اللّٰہ تعالیٰ کا خوف اور اَسرارِ الٰہی سے واقفیت کامل طریقے سے حاصل ہونے کے باوجود آپ اپنے مقام پر قائم ہیں ۔ 
هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِۚ-هُوَ الرَّحْمٰنُ