آیت’’وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے چار باتیں معلوم ہوئیں ،
(1)…جن لوگوں کو اللّٰہ تعالیٰ کے حقوق یاد نہ رہے جیسے یہودی اور عیسائی وغیرہ ،ان جیسا ہونے سے منع فرمایاگیاہے۔
(2)… اسلام کے سوا کسی اور دین میں رہ کر اللّٰہ تعالیٰ کو یاد کرنا قابلِ قبول نہیں ، کیونکہ وہ کفار اپنے عقیدے کے مطابق اللّٰہ تعالیٰ کو یاد کرتے تھے،لیکن ارشاد فرمایا کہ انہوں نے اللّٰہ تعالیٰ کو بھلا دیا۔
(3)…اللّٰہ تعالیٰ سے غافل ہونے کا اثر یہ ہو تا ہے کہ بندے کو اس بات کی کبھی فکر نہیں ہوتی کہ وہ دنیا میں کیوں آیا اور اسے کیا کرنا چاہیے۔
(4)… آخرت کی فکر نہ ہونا اللّٰہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔
لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِؕ-اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ(۲۰)
ترجمۂکنزالایمان: دوزخ والے اور جنت والے برابر نہیں جنت والے ہی مراد کو پہنچے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: دوزخ والے اور جنت والے برابر نہیں ، جنت والے ہی کامیاب ہیں ۔
{لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ: دوزخ والے اور جنت والے برابر نہیں ۔} یعنی جہنم والے جن کے لئے دائمی عذاب ہے اور جنت والے جن کیلئے ہمیشہ کا عیش اور سَرمَدی راحت ہے،یہ دونوں برابر نہیں بلکہ جنت والے ہی کامیاب ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی اللّٰہ تعالیٰ کی رضا میں گزاری اور آخرت میں اس کی نعمتوں کے مستحق ہوئے جبکہ کفار دونوں جگہ نقصان میں رہے۔
لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ