المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو کئی مرتبہ دیکھا کہ رات کی تاریکی میں آپ اپنے محراب میں لرزاں و ترساں اپنی داڑھی مبارک تھامے ہوئے ایسے بے چین بیٹھے ہوتے کہ گویا زہریلے سانپ نے ڈس لیا ہو ۔ آپ غم کے ماروں کی طرح روتے اور بے اختیار ہوکر ’’اے میرے رب ! اے میرے رب ! ‘‘پکارتے ، پھر دنیا سے مخاطَب ہو کر فرماتے ،’’تو مجھے دھوکے میں ڈالنے کے لئے آئی ہے ؟ میرے لئے بن سنور کر آئی ہے ؟ دور ہوجا! کسی اور کو دھوکا دینا ، میں تجھے تین طلاق دے چکاہوں ، تیری عمر کم ہے اور تیری محفل حقیرجبکہ تیرے مصائب جھیلنا آسان ہیں ، آہ صد آہ!زادِ راہ کی کمی ہے اور سفرطویل ہے جبکہ راستہ وحشت سے بھر پور ہے۔( حلیۃ الاولیاء، ذکر الصحابۃ من المہاجرین، علی بن ابی طالب، ۱/۱۲۶، روایت نمبر: ۲۶۱)
وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۱۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور ان جیسے نہ ہو جو اللّٰہ کو بھول بیٹھے تو اللّٰہ نے اُنھیں بلا میں ڈالا کہ اپنی جانیں یاد نہ رہیں وہی فاسق ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان لوگوں کی طرح نہ بنوجنہوں نے اللّٰہ کو بھلا دیا تو اللّٰہ نے انہیں ان کی جانیں بھلا دیں ، وہی نافرمان ہیں ۔
{وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ: اور ان لوگوں کی طرح نہ بنوجنہوں نے اللّٰہ کو بھلا دیا۔ } یعنی اے ایمان والو! ان یہودیوں اور منافقوں کی طرح نہ ہوناجنہوں نے اللّٰہ تعالیٰ کے حقوق کو بھلا دیا اورجیسی ا س کی قدر کرنے کا حق تھا ویسی قدر نہ کی اور ا س کے احکامات و ممنوعات کی ان کے حق کے مطابق رعایت نہ کی، تو اس کے سبب اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں اپنی جانوں کو بھول جانے والا بنا دیا(جس کا نتیجہ یہ ہوا )کہ وہ اس چیز کو نہیں سنتے جو انہیں نفع دے اور وہ کام نہیں کرتے جو انہیں نجات دے اوریہ بھول جانے والے ہی کامل فاسق ہیں ۔( روح البیان، الحشر، تحت الآیۃ: ۱۹، ۹/۴۴۹-۴۵۰)