Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
90 - 881
رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  :مراقبہ کا معنی ہے نگہبانی کرنا،جس طرح اپنا مال شریک کے حوالے کرکے شرط رکھی جاتی ہے اور عہدوپیمان کے بعد بھی بے خبر ہو کر نہیں  بیٹھ رہتے اسی طرح ہر وقت نفس کی خبر گیری کرتے رہنابھی ضروری ہے کیونکہ اگر تم اس سے غافل ہوگئے تو وہ کاہلی اور خواہشات کو پورا کرنے کے سبب پھر سے سرکش ہوجائے گا۔مراقبہ کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اس بات پر کامل یقین رکھے کہ اللّٰہ تعالیٰ اس کے ہر فعل اور ہر خیال سے واقف ہے اور ا س سے کسی بات کا کوئی پہلو پو شیدہ نہیں  ہے ،لوگ اگرصرف اس کے ظاہر کو دیکھتے ہیں  تو اللّٰہ تعالیٰ اس کے ظاہر و باطن دونوں  کو دیکھتا ہے۔ جس نے یہ بات سمجھ لی اور یہ آگہی اس کے دل پر غالب آگئی تو اس کا ظاہر و باطن زیورِ ادب سے آراستہ ہوجائے گا۔ انسان اگر اس بات پر یقین کرے کہ اللّٰہ تعالیٰ اس کے ظاہر و باطن سے واقف نہیں  ہے تو وہ کافر ہے اور اگر اس پر ایمان لایا ،پھر اس کی مخالفت کی تو وہ بڑا دلیر اور بے شرم ہے ۔( کیمیاء سعادت، رکن چہارم، اصل ششم در محاسبت ومراقبت، ۲/۸۸۵-۸۸۶)
	ترغیب کے لئے یہاں  بزرگانِ دین کے مُراقبہِ فکر ِآخرت سے متعلق تین واقعات بھی ملاحظہ ہوں ،
(1)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  :میں  ایک باغ میں  گیا تو وہاں  حضرت عمر فاروق  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہُ کی آواز سنی،ہم دونوں  کے درمیان ایک دیوار حائل تھی اور وہ کہہ رہے تھے:عمر ،خطاب کا بیٹااور امیر المومنین کا منصب!  واہ کیا خوب!اے عمر!اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ورنہ اللّٰہ تعالیٰ تمہیں  سخت عذاب دے گا۔( تاریخ الخلفاء، عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ، فصل فی نبذ من سیرتہ، ص۱۰۲)
(2)…حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب کسی قبر پر تشریف لے جاتے تو اس قدر روتے کہ ان کی داڑھی آنسوؤں  سے تر ہو جاتی۔آپ کی خدمت میں  عرض کی گئی :جنت اور دوزخ کے تذکرے پر آپ اتنا نہیں  روتے جتنا قبر پر روتے ہیں  ،(اس کی حکمت کیا ہے؟)آپ نے فرمایا:میں  نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سنا ہے کہ قبر آخرت کی سب سے پہلی منزل ہے ،اگر قبر والے نے اس سے نجات پا لی تو بعد(یعنی قیامت)کا معاملہ آسان ہے اور اگر اس سے نجات نہ پائی تو بعد کا معاملہ زیادہ سخت ہے اور رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’میں  نے قبر سے زیادہ ہَولناک منظر کوئی نہیں  دیکھا۔( ترمذی، کتاب الزہد، ۵-باب، ۴/۱۳۸، الحدیث: ۲۳۱۵)
(3)…حضرت ضرار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں  :میں  خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں  کہ میں  نے امیر المؤمنین حضرت علی