Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
89 - 881
وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ(۱۸)
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو اللّٰہ سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ کل کے لیے کیا آگے بھیجا اور اللّٰہ سے ڈرو بے شک  اللّٰہ کو تمہارے کاموں  کی خبر ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللّٰہ سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ اس نے کل کے لیے آگے کیا بھیجا ہے اور اللّٰہ سے ڈرو بیشک اللّٰہ تمہارے اعمال سے خوب خبردار ہے۔ 
{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ: اے ایمان والو! اللّٰہ سے ڈرو۔} گزشتہ آیات میں  یہودیوں  کی عہدشکنی اور منافقین کے مکروفریب کوبیان کیاگیا اوراب یہاں سے ایمان والوں کو نصیحت کی جا رہی ہے ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو!تم جو کام کرتے ہو اور جو چھوڑتے ہو ہر ایک میں  اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کے حکم کی مخالفت نہ کرو اور ہر  جان دیکھے کہ اس نے قیامت کے دن کے لئے کیا اعمال کیے اورتمہیں  مزید تاکید کی جاتی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں  سرگرم رہو، بیشک اللّٰہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبردار ہے(لہٰذا جب گناہ کرنے لگوتو سوچ لو  کہ اللّٰہ  تعالیٰ ہمارے اس گناہ کو دیکھ رہا ہے ، وہ قیامت کے دن اس کا حساب لے گا اور اس کی سزا دے گا) ۔( روح البیان، الحشر، تحت الآیۃ: ۱۸، ۹/۴۴۷-۴۴۸)
مُراقبہ کی اصل:
	اس آیت سے معلو م ہواکہ ایک گھڑی غورو فکر کرنا بہت سے ذکر کرنے سے بہتر ہے۔ اپنے اعمال کے بارے میں  سوچنا بہت افضل عمل ہے اور یہی مراقبہ ہے۔
 	حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’(آخرت کے معاملے میں )گھڑی بھر غورو فکر کرنا60سال کی عبادت سے بہتر ہے۔( کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، التفکّر، الجزء الثالث، ۲/۴۸، الحدیث: ۵۷۰۷) لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے اُخروی معاملات کے بارے میں  مراقبہ اور غور و فکرکرتا رہے ۔ مراقبہ کا معنی اور اس کی حقیقت بیان کرتے ہوئے امام محمد غزالی