کرنا چاہئے ،پھر وہ نیکی میں رغبت رکھنے والے آدمی کی طرح اس کام کو کرتا ہے یہاں تک کہ معاملہ ا س کے اختیار سے نکل جاتا ہے (اور وہ گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے ) ،پھر ایک بات دوسری بات کی طرف لے جاتی ہے یہاں تک کہ اس کے لئے چھٹکارے کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔( احیاء علوم الدین،کتاب شرح عجائب القلب،بیان تسلّط الشیطان علی القلب بالوسواس وسبب غلبتہا،۳/۳۸-۳۹)
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ شیطان کے اس خطرناک طریقے سے ہوشیار رہے اوربطورِ خاص کسی عورت کے ساتھ اچھائی کرنے سے پہلے اس بات پر خوب غور کر لے کہ یہ چیزآگے چل کر اسے گناہ میں مبتلا تو نہ کر دے گی ،اگر اس کا ذرا سا بھی اندیشہ نظر آئے تو ہر گز ہرگز اپنے نفس پر اعتماد کرتے ہو ئے بظاہر اچھا نظر آنے والا وہ کام نہ کرے کہ اسی میں اس کے دین کی سلامتی اور ایمان کی حفاظت کا سامان ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے اور ہمیں شیطان کے مکرو فریب سے بچائے،اٰمین۔
فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَاؕ-وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠(۱۷)
ترجمۂکنزالایمان: تو ان دونوں کا انجام یہ ہوا کہ وہ دونوں آگ میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ان دونوں کا انجام یہ ہوا کہ وہ دونوں آگ میں ہوں گے ہمیشہ اس میں رہیں گے اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔
{فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ: تو ان دونوں کا انجام یہ ہوا۔} یعنی شیطان اور کفر کرنے والے اس انسان کا اُخروی انجام یہ ہوا کہ وہ دونوں جہنم کی آگ میں ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے اور ظالموں کی یہی سزا ہے کہ وہ ہمیشہ جہنم کی آگ میں رہیں ۔( روح البیان، الحشر، تحت الآیۃ: ۱۷، ۹/۴۴۳-۴۴۴)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۚ-