صفت کا ذکر فرمایا۔جبکہ انسان جوانی میں مست ہو کر بے راہ ہو جاتا ہے، اس وقت اس پر قانونی گرفت کی ضرورت ہے، اس لئے یہاں ’’مَلِكِ النَّاسِ‘‘ یعنی لوگوں کا بادشاہ فرمایا، اورچونکہ انسان بڑھاپے میں عبادت میں مشغول ہوتا ہے، اس لئے تیسری جگہ اللّٰہ تعالیٰ کی صفت ِ اُلُوہِیَّت اور معبودیَّت کا ذکر فرمایا یعنی ’’اِلٰهِ النَّاسِ‘‘۔ چوتھی جگہالنَّاسِ سے صالحین مراد ہوسکتے ہیں کہ شیطان عموماًانہیں ہی وسوسوں کے ذریعے عبادت سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے اور پانچویں جگہ النَّاسِ سے مراد شر پسند اور فسادی لوگ ہو سکتے ہیں کہ وہاں لوگوں کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔
{مَلِكِ النَّاسِ: تمام لوگوں کا بادشاہ ۔} یعنی ان کے کاموں کی تدبیر فرمانے والاہے اورسب کا حقیقی حاکم و مالک کہ دنیا میں بھی کسی کو حکومت و مِلکیَّت ملے تو اسی کی عطا سے ملتی ہے۔
{اِلٰهِ النَّاسِ: تمام لوگوں کا معبود۔} معبود ہونا اسی کے ساتھ خاص ہے اور سارے لوگوں کا حقیقی معبود وہی ہے۔
{مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ ﳔ الْخَنَّاسِ: باربار وسوسے ڈالنے والے، چھپ جانے والے کے شر سے۔} اس سے مراد شیطان ہے اوریہ اس کی عادت ہے کہ انسان جب غافل ہوتا ہے تو اس کے دِل میں وسوسے ڈالتا ہے اورجب انسان اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان دبک رہتا ہے اور ہٹ جاتاہے ۔
وسوسہ اور اِلہام میں فرق:
یاد رہے کہ برے خیال کو وسوسہ کہا جاتا ہے جبکہ اچھے خیالات کو اِلہام ۔ وسوسہ شیطان کی طرف سے ہے لہٰذا اس پر لَا حَوْل پڑھنی چاہیے،اور اِلہام فرشتے کے ذریعے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتاہے، اس لئے اس پر اللّٰہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ نفسِ اَمّارہ کے غلبہ میں وسوسے زیادہ ہوتے ہیں جبکہ نفسِ مُطْمَئِنّہ کے غلبہ میں اِلہام زیادہ۔ شیطان ہمارا ایسا دشمن ہے جو ہمیں نظر نہیں آتا یعنی وہ ہمیں دیکھتا ہے اورہم اسے نہیں دیکھتے، لہٰذا اس طاقت والے رب عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگو، جو اسے دیکھتا ہے، اور وہ رب عَزَّوَجَلَّ کو نہیں دیکھتا ۔قوی دشمن سے قوی رب عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگو۔
{اَلَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ: وہ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔} یعنی شیطان زبان و آواز سے نہیں بہکاتا، بلکہ براہ راست دل میں اثر ڈالتا ہے، بری چیز کو اچھی کر دکھاتا ہے۔خود دشمن ہے مگر دوستی کے لباس میں آتا ہے،پھر جیسا انسان ہوویسا ہی اسے وسوسہ ڈالتا ہے۔