Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
874 - 881
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ(۱) مَلِكِ النَّاسِۙ(۲)اِلٰهِ النَّاسِۙ(۳) مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ ﳔ الْخَنَّاسِﭪ(۴)الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ(۵) مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠(۶)
ترجمۂکنزالایمان: تم کہو میں  اس کی پناہ میں  آیا جو سب لوگوں  کا رب۔سب لوگوں  کا بادشاہ۔سب لوگوں  کا خدا۔ اس کے شر سے جو دل میں  برے خطرے ڈالے اور دبک رہے ۔وہ جو لوگوں  کے دلوں  میں  وسوسے ڈالتے ہیں ۔ جن اور آدمی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم کہو: میں  تمام لوگوں  کے رب کی پناہ لیتا ہوں  ۔ تمام لوگوں  کا بادشاہ۔ تمام لوگوں  کا معبود۔ بار بار وسوسے ڈالنے والے، چھپ جانے والے کے شر سے(پناہ لیتا ہوں )۔وہ جو لوگوں  کے دلوں  میں  وسوسے ڈالتا ہے۔ جنوں  اورانسانوں  میں  سے۔
{قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ: تم کہو: میں  تمام لوگوں  کے رب کی پناہ لیتا ہوں  ۔} اللّٰہ تعالیٰ ساری مخلو ق کا رب ہے مگر چونکہ انسان اشرفُ المخلوقات ہے، اس لئے ان کا خصوصیت سے ذکر فرمایا۔( خازن، النّاس، تحت الآیۃ: ۱، ۴/۴۳۰)
انسان کی عظمت و شرافت:
	اس سے انسان کی عظمت و شرافت بھی معلوم ہوئی کہ بطورِ خاص اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی رَبُوبِیَّت کی نسبت اُس کی طرف فرمائی۔ علماء نے یہاں  یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ اس سورت میں  پانچ مرتبہ     لفظ ’’اَلنَّاسِ ‘‘ آیا ہے اس میں  حکمت یہ ہے کہ چونکہ انسان بچپن میں  صرف پرورش ہی پاتا ہے، اس لئے سب سے پہلے ’’رَبِّ النَّاسِ‘‘ یعنی رَبُوبِیَّت والی