{مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ: جنوں اورانسانوں میں سے۔} یہ بیان ہے وسوسے ڈالنے والے شیطان کا کہ وہ جنوں میں سے بھی ہوتا ہے اور انسانوں میں سے بھی جیسے شَیاطینِ جن انسانوں کو وسوسے میں ڈالتے ہیں ایسے ہی شیاطینِ انسان بھی ناصح بن کر آدمی کے دل میں وسوسے ڈالتے ہیں پھر اگر آدمی ان وسوسوں کو مانتا ہے تو اس کا سلسلہ بڑھ جاتا ہے اوروہ خوب گمراہ کرتے ہیں اوراگر اس سے متنفر ہوتا ہے تو ہٹ جاتے ہیں اور دبک رہتے ہیں ۔
جنوں اور انسانوں کے شَیاطین سے پناہ مانگیں :
آدمی کو چاہئے کہ جنوں کے شَیاطین کے شر سے بھی پناہ مانگے اورانسانوں کے شیاطین کے شر سے بھی۔ اس سلسلے میں یہاں ایک مفید وظیفہ پیش ِخدمت ہے ،چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ رات کے وقت جب بستر مبارک پر تشریف لاتے تو اپنے دونوں دست ِمبارک جمع فرما کر ان میں دم کرتے اور سورہقُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِاور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِپڑھ کر اپنے مبارک ہاتھوں کو سر مبارک سے لے کر تمام جسم ِاَقدس پر پھیرتے جہاں تک دست ِمبارک پہنچ سکتے، یہ عمل تین مرتبہ فرماتے۔( بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب فضل المعوّذات، ۳/۴۰۷، الحدیث: ۵۰۱۷)
حضرت عبد اللّٰہ بن خبیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :ہم پر ہلکی بارش ہوئی اور اس وقت اندھیرا چھایا ہوا تھا اور ہم نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کا انتظار کر رہے تھے تاکہ وہ آ کر ہمیں نماز پڑھائیں ،پھر حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ہمیں نماز پڑھانے کے لئے تشریف لائے اور ارشاد فرمایا’’پڑھو!میں نے عرض کی :ـکیا پڑھوں ؟ ارشاد فرمایا:’’صبح شام تین تین بار قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌاور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِاور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِپڑھو، ان کی تلاوت کرنا تمہیں ہر بری چیز سے بچائے گا۔( سنن نسائی، کتاب الاستعاذۃ، ۱-باب، ص۸۶۲، الحدیث: ۵۴۳۸)
اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس تفسیر کو عوام اور خواص سبھی مسلمانوں کے لئے نفع بخش اور فائدہ مند بنائے اور اسے مسلمانوں کی اعتقادی، علمی اور عملی اصلاح کا بہتر ین ذریعہ بنائے اور اس کے صدقے میری ،میرے والدین، میرے عزیز رشتہ داروں ،اساتذہ ِکرام،دوست اَحباب ،دیگر متعلقین اور معاونین کی بے حساب بخشش و مغفرت فرمائے۔ اٰمین ثم اٰمین۔