Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
868 - 881
تعویذات اور عملیات سے متعلق ایک شرعی مسئلہ:
	یہاں  ایک مسئلہ ذہن نشین رکھیں  کہ وہ تعویذ اور عملیات جن میں  کفر یا شرک کا کوئی کلمہ نہ ہو جائز ہیں ، خاص کر وہ عمل جو آیاتِ قرآنیہ سے کئے جائیں  یااَحادیث میں  وارد ہوئے ہوں ۔( خازن، الفلق، تحت الآیۃ: ۱، ۴/۴۲۹)حدیث شریف میں  ہے کہ حضرت اَسماء بنت عُمیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، جعفر کے بچوں  کو جلد جلد نظر ہوتی ہے کیا مجھے اجازت ہے کہ ان کے لئے عمل کروں  ؟حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے اجازت دی۔( ترمذی، کتاب الطّب، باب ما جاء فی الرّقیۃ من العین، ۴/۱۳، الحدیث: ۲۰۶۶)
سورۂ فَلق اور سورۃُ النّاس کے شانِ نزول سے حاصل ہونے والی معلومات :
	اس سورت اور اس کے شانِ نزول سے 4 باتیں  معلوم ہوئیں  ،
(1) … جادو اور اس کی تاثیر حق ہے۔
(2) … نبی کے جسم پر جادو کا اثر ہو سکتا ہے، جیسے تلوار، تیراور نیزہ کا، یہ اثرشانِ نبوت کے خلاف نہیں ہاں  ایسا اثر نہیں  ہوسکتا کہ جس سے نبوت کے متعلقہ اُمور میں  خَلل آئے۔حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مقابلے میں  جادوگر بالآخر اس لئے فیل ہوئے کیونکہ وہاں  جادو سے معجزے کا مقابلہ تھا ورنہ حضرت موسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے خیال پر بھی اس جادو نے اثر کیاکہ ان کو خیال ہو ا کہ یہ لاٹھیاں  رسیاں  چل رہی ہیں جیسا کہ قرآنِ پاک میں  ہے: ’’یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى‘‘(طہ:۶۶)
ترجمۂکنزُالعِرفان: ان کے جادو کے زور سے موسیٰ کےخیال میں  یوں  لگیں  کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔
	نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے خیال پر بھی یہی اثر ہواتھا۔
(3) … جادو کو دور کرنے میں  سورۂ فَلق اور سورۂ ناس میں  خصوصی تاثیر ہے۔
(4) … جادو ٹونہ اور عملیات و اثرات اور بیماریوں کو ختم کرنے کیلئے قرآنِ پاک کی سورتوں  اور آیتوں  کو استعمال کیا جاسکتا ہے جیساکہ اوپر بیان ہوا اور خود بخاری شریف میں  سورۂ فاتحہ کو اس مقصد کیلئے استعمال کرنے کا بیان موجود ہے۔( صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب فاتحۃ الکتاب، ۳/۴۰۴، الحدیث: ۵۰۰۷)