Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
867 - 881
 کو پڑھنا شروع کر دیا اور ان کے علاوہ(دیگر وظائف) کو چھوڑ دیا۔( ترمذی، کتاب الطّب، باب ماجاء فی الرّقیۃ بالمعوّذتین، ۴/۱۳، الحدیث: ۲۰۶۵)
(3) …حضرت عابس جُہنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میں  تمہیں  وہ کلمات نہ بتاؤں  جو (شریر  جِنّا ت اور نظر ِبد سے) اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے میں  سب سے افضل ہیں  ؟ انہوں  نے عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، کیوں  نہیں (آپ ضرور بتائیے۔)ارشاد فرمایا: ’’وہ کلمات یہ دونوں  سورتیں  ہیں  :(1) قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔(2)قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔( سنن نسائی، کتاب الاستعاذۃ، ۱-باب، ص۸۶۲، الحدیث: ۵۴۴۲)
سورۂ فَلق اور سورۃُ النّاس کاشانِ نزول :
	یہ سورت اور سورۃُ النّاس جو اس کے بعد ہے اس وقت نازل ہوئی جب کہ لبیدبن اعصم یہودی اور اس کی بیٹیوں  نے حضورپُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ پر جادو کیا اور حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے جسمِ مبارک اور ظاہری اَعضا پر اس کا اثر ہوا، البتہ دل، عقل اور اعتقاد پر کچھ اثر نہ ہوا۔ چند دنوں  بعد حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام آئے اور انہوں  نے عرض کی: ایک یہودی نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ پر جادو کیا ہے اور جادو کا جو کچھ سامان ہے وہ فلاں  کنوئیں  میں  ایک پتھر کے نیچے دبایا ہوا ہے ۔رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو بھیجا اورانہوں نے کنوئیں  کا پانی نکالنے کے بعد پتھر اٹھایا تواس کے نیچے سے کھجور کے درخت کے نرم حصے سے بنی ہوئی تھیلی برآمد ہوئی جس میں  حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے وہ موئے مبارک جو کنگھی سے برآمد ہوئے تھے اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی کنگھی کے چند دندانے اور ایک ڈورا یا کمان کا چِلّہ جس میں  گیارہ گرہیں  لگی تھیں  اور ایک موم کا پُتلہ تھا جس میں  گیارہ سوئیاں  چبھی ہوئی تھیں ۔ یہ سب سامان پتھرکے نیچے سے نکالا اور حضورپُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی خدمت میں  حاضر کیا گیا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے یہ دونوں  سورتیں  نازل فرمائیں ، ان دونوں  سورتوں  میں  گیارہ آیتیں  ہیں ، پانچ سورئہ فلق میں اور چھ سورۂ ناس میں ۔ ہر ایک آیت کے پڑھنے کے ساتھ ایک ایک گرہ کھلتی جاتی تھی یہاں  تک کہ سب گرہیں  کھل گئیں  اور حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ بالکل تندرست ہوگئے۔ (خازن، الفلق، تحت الآیۃ: ۱، ۴/۴۲۸-۴۲۹، ملخصاً)