Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
866 - 881
سورۂ فَلَق
سورۂ فَلق کا تعارف
مقامِ نزول:
	ایک قول یہ ہے کہ سورۂ فَلق مدینہ منورہ میں  نازل ہوئی اور ایک قول یہ ہے کہ مکہ مکرمہ میں  نازل ہوئی ہے۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے( کیونکہ اس کے شانِ نزول سے اسی کی تائید ہوتی ہے)۔ (خازن، تفسیر سورۃ الفلق، ۴/۴۲۸)
رکوع اور آیات کی تعداد:
	اس سورت میں 1 رکوع، 5آیتیں  ہیں ۔
’’ فلق ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
	فلق کے کئی معنی ہیں  اور یہاں  اس سے مراد ’’صبح‘‘ ہے،اور چونکہ اس سورت کی پہلی آیت میں  یہ لفظ موجود ہے اس مناسبت سے اسے ’’سورۂ فلق ‘‘ کہتے ہیں ۔
سورۂ فَلق اور سورۂ والنّاس کے فضائل:
	اَحادیث میں  سورۂ فَلق اور سورۂ والنّاس کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں  ،ان میں  سے 3فضائل درج ذیل ہیں  ۔
(1) …حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’کیا تم نے نہیں  دیکھا کہ آج رات مجھ پر ایسی آیتیں  نازل ہوئی ہیں  جن کی مثل نہیں  دیکھی گئی ،(وہ آیتیں  )قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (سورت کے آخر تک) اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ(سورت کے آخر تک )ہیں ۔( مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب فضل قراء ۃ المعوّذتین، ص۴۰۶، الحدیث: ۲۶۴(۸۱۴))
(2) …حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  جِنّات سے اور انسانوں  کی نظر سے پناہ مانگا کرتے تھے یہاں  تک کہ سورۂ فَلق اور سورۂ وَالنَّاس نازل ہوئیں  ،پھر آپ نے ان سورتوں