Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
861 - 881
وَسَلَّمَ کو اورآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے اَصحاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو ایذا و تکلیف ہو اور حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی ایذا رسانی اس کو اتنی پیاری تھی کہ وہ اس کام میں  کسی دوسرے سے مدد لینا بھی گوارا نہ کرتی تھی۔( بیضاوی، المسد، تحت الآیۃ: ۴، ۵/۵۴۵، خازن، ابولہب، تحت الآیۃ: ۴، ۴/۴۲۵، ملتقطاً)
{فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ: اس کے گلے میں  کھجور کی چھال کی رسی ہے ۔ } اُمِّ جمیل  کے گلے میں  کھجور کی چھال سے بنی ہوئی رسی ہوتی جس سے وہ کانٹوں  کا گٹھا باندھتی تھی ۔ایک دن یہ بوجھ اٹھا کر لارہی تھی کہ تھک کر آرام لینے کے لئے ایک پتھر پر بیٹھ گئی ایک فرشتے نے اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے پیچھے سے اس گٹھے کو کھینچا ،وہ گرا اوراُمِّ جمیل کو رسی سے گلے میں  پھانسی لگ گئی اور وہ مرگئی۔ (خازن، ابو لہب، تحت الآیۃ: ۵، ۴/۴۲۵)
	اِس گستاخ، خبیث نے دنیا میں  بھی عذاب کا مزہ چکھا اور آخرت میں  بھی عذاب میں  جائے گی۔ آخرت میں  آگ کی زنجیریں  اس کے گلے میں  ہوں  گی اور جہنم کی لکڑیوں  کا گٹھا اس کی پشت پر لدا ہوا ہوگا۔