Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
860 - 881
مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ(۲) سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ(۳)
ترجمۂکنزالایمان: اسے کچھ کام نہ آیا اس کا مال اور نہ جو کمایا۔اب دھنستا ہے لپٹ مارتی آگ میں  وہ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس کا مال اور اس کی کمائی اس کے کچھ کام نہ آئی۔ اب وہ شعلوں  والی آگ میں  داخل ہوگا۔
{مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَ: اس کا مال اور اس کی کمائی اس کے کچھ کام نہ آئی۔ } مروی ہے کہ ابولہب نے جب پہلی آیت سنی تو کہنے لگا کہ جو کچھ میرے بھتیجے کہتے ہیں  اگر سچ ہے تو میں  اپنی جان کے لئے اپنے مال و اولاد کو فدیہ کردوں  گا ۔اس آیت میں  اس کا رد فرمایا گیا کہ یہ خیال غلط ہے اس وقت کوئی چیز کام آنے والی نہیں ۔( مدارک، المسد، تحت الآیۃ: ۲، ص۱۳۸۱، خزائن العرفان، اللّہب، تحت الآیۃ: ۲، ص۱۱۲۴)
{سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ: اب وہ شعلوں  والی آگ میں  داخل ہوگا ۔} یعنی ابو لہب قیامت کے بعد دوزخ میں  داخل ہو کر آگ کا عذاب پائے گا، اس سے معلوم ہوا کہ ابو لہب کا دوزخی ہونا یقینی ہے۔ 
وَّ امْرَاَتُهٗؕ-حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ(۴) فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠(۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور اس کی جورو لکڑیوں  کا گٹھا سر پر اٹھائے۔ اس کے گلے میں  کھجور کی چھال کا رسا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس کی بیوی لکڑیوں  کا گٹھا اٹھانے والی ہے۔اس کے گلے میں  کھجور کی چھال کی رسی ہے ۔
{وَ امْرَاَتُهٗؕ-حَمَّالَةَ الْحَطَبِ: اور اس کی بیوی لکڑیوں  کا گٹھا اٹھانے والی ہے۔} اُمِّ جمیل بنتِ حرب بن اُمیہ ابوسفیان کی بہن جو رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے نہایت عناد اورعداوت رکھتی تھی اور بہت دولتمند اور بڑے گھرانے کی عورت ہونے کے باوجود رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی عداوت میں  اِس انتہا کو پہنچی ہوئی تھی کہ خود اپنے سر پر کانٹوں  کا گٹھا لا کر رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کے راستہ میں  ڈالتی تاکہ حضورپُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ